Saturday, 15 June 2019


یونانی ادب
ملک اور سر زمین اپنے معدنی وسائل ، جہازوں کی تعداد، فوجی استحکام اور اجناس کے زخائر سے نہیں پہچانی جاتی۔ نامورشخصیتیں ملک اور سرزمین کی پہچان بنتی ہیں۔ادب، شاعری، فلسفہ،اور علم انہیں ناقابل فراموش اور زندہ جاوید بنا                 تا ہے۔۔۔۔(۱)اس حوالے سے  اگر دیکھا جائے تو دنیا مین سب سے زیادہ مالامال سر زمین یونان ہے جس نے سقراط،افلاطون ،اور ارسطو جیسے فلسفی ،ہومرجیسےعظیم شاعر ،اسکائیلس اوریوری پیڈیز  جیسے المیہ نگاروں کے ذریعےسے اپنے نا م کو دوام بخشا ہے ۔یونانی ادب  کےمطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یونانی ادبیات کا ایک بڑا حصَہ ہم تک نہیں پہنچ پایا    ، انسائیکلو پیڈیا  براٹینکا   میں اس بات  کوکچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے؛
The literature of ancient Greece only a relatively small proportion survives….(۲)
تاہم  مقدار میں کم ہونے کے باوجود یونانی ادب کو دنیا  ئے ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔یونانی ادب پر بات کرنے سے پہلے یہ بات ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے جس نے اپنی آغوش میں اس ادب کو جگہ دی۔
قدیم یونان
قدیم یونان کی تاریخ کے بارے میں کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی کیونکہ اس حوالے سے ہماری معلو مات نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم روایات سے پتہ چلتا ہےکہ ۳۵سو قبل مسیح میں یونان کے شمال میں موجود ایک وادی تھسلی میں کچھ گلہ بانوں کی بستیاں آباد تھیں۔قدیم موَرخ یوسی بیس کے مطابق یونان کا قدیم شہر سی سیون حضرت عیسٰی علیہ سلام سے  دو ہزار سال پہلے قائم ہوا تھا ۔یونان کی قدیم ترین آبادی عیسٰی علیہ سلام کی آمد سے دو ہزار سال پہلےیہاں موجود تھی یہ لوگ کالی رنگت کے تھے اور کانسی سے دھار والے اوزار کامیابی سے بنا تے تھے ۔ان کا مسکن حصارلک کی بستی تھی جو ٹرائے کے نام سے مشہور ہے ۔مرتضیٰ احمد خان کے مطابق
"حصارلک کی بستی (۱۹۰۰ق م) کے قریب ایک بدوی قوم کی یلغار  کا شکار ہوکر تباہ ہوگئی"۔۔۔(۳)
مطالعے سے  یہ بات سامنے آتی ہے کہ حصارلک کی بستی  یعنی ٹرائے ایک نہیں کئی مرتبہ تباہ ہوا ، اس شہر کی تباہی کے بارے میں باری علیگ لکھتے ہیں
"ٹرائے تین مرتبہ آباد ہو کر تباہ ہوا اس طرح ٹرائے نے آخری مرتبہ تباہ ہونے سے پہلے پتھر ، کانسی اور لوہے کے زمانوں میں بتدریج سفر کیا"۔۔۔۔(۴)
اس  دور میں  جزیرہ کریٹ کا تمدن باقی ملکوں سے زیادہ ترقی یافتہ تھا ۔یہاں کے لوگ جہاز رانی میں ماہر تھے   اور بحری تجارت بھی کرتے تھے ۔ ان لوگوں نے یونان کی سر زمین پر  ڈیلفی کے مقام پر ایک معبد بھی  تعمیر کروایا  جہاں سانپو ں  کی دیوی کی پوجا   کی جاتی تھی ۔اسی زمانے میں ایک اور قوم  (آکائیائی ) کی آمد کے آثار  ملتے ہیں  یہ لوگ گوری رنگت والے تھے ۔ پندرہ سے سولہویں صدی تک یہ لوگ اپنے عروج پر تھے ،لیکن جس طرح پلاسگی قوم کو (جو کہ ٹرائےکے مکین تھے)کو ۱۹۰۰ق م میں بدوی قوم کی یلغار نے  تباہ کیا بلکل اسی طرح آکائیائی تہذیب کو ڈوریائی حملوں نے ہلا کر رکھ دیا ۔ بقول ڈاکٹر وہاب اشرفی؛
"ڈوریائی  قبیلوں کے پےدر پے حملوں نے آکائیائی تہذیب کو زبردست  نقصان پہنچایا حملہ آوروں نے رفتہ رفتہ تھسیائی کو پھر پیلو پونسیس کو اور بعد میں
ماتحت جزیروں کو فتح کر کے آکائیائی  تہذیب و تمدَن کے مرکز کو تباہ و برباد کر دیا"۔۔۔(۵)

روایات کے  مطابق انہی ڈوریائی قبیلوں نےاسپارٹا کی حکومت  قائم کی اور ایک مضبوط عسکری نظام کے تحت شخصی حکومت کی داغ بیل ڈالی ۔اس دور میں اسپارٹا کی عسکری قوت اپنے عروج پر تھی ان کی عسکری قوت پر توجہ کا  اندازہ  اس بات سے بخوبی  لگایا جاسکتا ہے ،باری علیگ لکھتے ہیں ؛
"جہاں یونان کی دوسری شہری  ریاستوں نے شاعر، فلسفی ، ادیب ، اور سنگ تراش پیدا  کیے وہاں اسپارٹا صرف سپاہی پیدا کر سکا"۔۔(۶)
یونان کی تاریخ میں انقلاب اس وقت آ یا جب   شہنشاہ ایران نے سرزمین یونان پر حملہ کیا۔یہ حملہ اہل یونان کےلیے اس حوالے سے خوش آئند  ثابت ہوا کہ اہل   یونان نے  متحد ہو کر درا یوش کا سامنہ کیا اور اپنے حوصلے اور ہمت سے درا یوش کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔ لیکن بد قسمتی سے یہ اتحاد  وقتی ثابت ہوا اور چوتھی  صدی قبل  مسیح  میں یونان پھر  سے بدامنی  اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا ۔ اس ضمن میں باری علیگ لکھتے ہیں :
"یونان  کی تاریخ مختلف  ریاستوں کی رقابتوں کی تاریخ ہے"۔۔۔(۷)
قدیم یونانیوں  کی خا نہ جنگی کا اور انکے باہمی اتحاد  کا اندازہ  اوپر کی سطر سے  بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھا کر مقدونیہ کے بادشاہ  فلپ نے ان ریاستوں کو بزورِ شمشیر اپنا مطیع بنا لیا ، بعدازاں اس کے بیٹے  سکندرِ اعظم نے تو  تقریباً   آدھی  دنیا کو زیر و زبر کر ڈالا۔دوسری صدی قبلِ مسیح  میں رومن یہاں آئے  ، رومیوں کے بعد(۱۷۱۸ء) میں ترک اور عثمانی اس ملک میں وارد ہوئے، انکے قبضے سے یہ ملک ۱۸۱۹ءمیں نکل گیا اور وہاں ایک خود سر عیسائی  ریاست کا قیام عمل میں آیا۔
یونانی دیومالا
یونان کی تاریخ میں صنمیات اور اسطورہ کا بڑا زبردست  عمل دخل ہے اور اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قدیم یونان کا تصور دیومالا کے بغیر ممکن ہی نہیں  ۔انکی  تقریباً سبھی روایات کی تشریح کے لئے ہمیں انکے اسطورہ اور صنمیات کے مطالعہ کی ضرورت پڑتی ہے۔انکے تمام ترتصورات،تہذیب وتمدن، بنیادی عقائد ،روحانی جذبے ، رسوم ورواج اور عسکری نظام کے تمام پہلو انکے صنمیات میں سمٹے ہوئے ہیں ۔
نسل انسانی کے آغاز کے بارے میں قدیم یونانیوں کا عقیدہ درج ذیل ہے
"یونانیوں کی پرانی روایت یہ ہے کہ پرویتھیٹس دیوتا نے یونان
کے ایک ساحلی مقام نیوپٹس کی مٹی سے انسان بنائے تھے۔۔(۸)
انکے اسی دیومالائی مزاج نے  سر زمینِ یونان  میں متعدّد دیوی ،دیوتاوں کو وجود بخشا ہے انکے ہاں ہر کام کے اپنے مخصوص دیوتا ہیں جن کی تفصیل آگے آئے گی ۔ہر دیوتا کے اپنے کچھ اختیارات ہیں لہٰذا جب کسی کو کوئی حاجت پیش آتی تو حاجت مند مطلوبہ دیوتا سے روجوع کرتا ۔انکے دیوتاؤں کی فہرست کافی   طویل ہے اس ضمن میں ڈاکٹر وہاب اشرافی رقمطراز ہیں ؛
"اگر انکے دیوی دیوتاؤں کی فہرست جائے تو ایک اچھی خاصی کتاب مر تب ہوسکتی ہے"(۹)
تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مذہبی حوالے سے اہلِ یونان بت پرست تھے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ انکے دیوی ،دیوتا عام انسانوں کی طرح خواہشات رکھتے تھے بعض مذکر خداوں کی بیویاں بھی تھی اور اس کے علاوہ اگر  تنہا کوئی عورت  بھیڑ ،بکریاں چراتے ہوئے مل جاتی توان پر بھی تصّرف کر  بیٹھتے  اور ان سے جو اولاد پیدا ہوتی وہ آدھے انسان آدھے دیوتا کہلاتے ۔ہومر کی تخلیقات میں بھی اس حوالے سے شواہد ملتے ہیں ۔ "اوڈیسی میں  دیوتاؤں کے متعلق متوازن تصور دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ان کی خو بو انسانوں سے ملتی جلتی ہے جس طرح انسان معمولی معمولی باتوں پر ناراض ہوتے ہیں ۔وہ بھی ایسا کرتے ہوئے دکھائی  دیتے ہیں ۔کسی بھی دیوتا کے کسی بھی عمل سے اس بات  کا اظہار نہیں ہوتا کہ اس کے لئے اس کے سامنے جواز کے طور پر کوئی قاعدہ یا قانون بھی ہے "(۱۰)
قدیم یونان کے چند دیوتاؤں کی فہرست درج ذیل ہے
زیئس:اسے رب الارباب سمجھا جاتا تھا ۔
ڈیمیٹر:زمین کی دیوی تھی۔
ہیڈس: تحت الثریٰ کا حکمراں تھا۔
ہیرا: زیئس کی بیوی تھی اور شادی کی دیوی سمجھی جاتی تھی۔
اپولو:زیئس کا بیٹا تھا اور روشنی کا دیوتا تھا ۔
اتھینا:زیئس کی بیٹی اور ذہانت کی دیوی تھی ۔
ڈایونیسس:شراب کا دیوتا تھا ۔
ایریس:ذہانت کا دیوتا تھا۔
فیبس: سورج کا دیوتا تھا۔(۱۱)
ادب
یو نانی ادب کا شمار دنیا  کے قدیم ترین ادبوں میں ہوتا ہے۔یو نانی ادب ہمیشہ سے اپنی قدامت اورعظمت کی بناء پرادب کے قاری کی آنکھوں کی زینت رہاہے ۔ یونانی  ادب  چونکہ ایک ایسے سماج کی گود میں پلا بڑھا  جہاں دیوی ،دیوتاؤں کی پرستش ہوتی تھی ،لہٰذا       ان کا ادب بھی نہایت بری طرح اسی اسطورہ کے جال  میں گرفتار ہے۔
انکے متعدد گیتوں  میں صرف انکے دیوی دیوتاؤں کے ہی گن گائے گئے ہیں اور بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے کے جیسے ادب کا مقصد انکی مذہبی تعلیمات کا پرچار ہی ہے۔ "پورے  کلاسیکی عہد میں یونانی اساطیری کہانیوں نے اپنی غیر معمولی   تازگی برقرار رکھی ،اور عقل ،جذبات اور تصورات  کو یکساں طور پر متاثر کیا"۔۔۔۔۔۔(۱۲)ادب میں موجودان اساطیری کہانیوں نے اس سماج پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جنہیں آج بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔
اگر ابتدائی ادبی  نمونوں کی بات کی جائے تو ،"اس باب میں ایک سوال یہ  ابھرتا ہے  کہ یونان کا قدیم ترین ادبی نمونہ کیا ہے۔مورخین یا ماہرین لسانیات نے  اس ضمن میں کچھ خاطر خواہ روشنی نہیں ڈالی بلکہ یہ کہنا  زیادہ  صحیح ہوگا کہ بالکل ابتدائی  نمونے اب تک ناپید ہیں اور ابتدائی لٹریچر کے نام سے جو کچھ  ہمارے سامنے ہے وہ ہومر کی نظمیں ہیں "۔۔۔(۱۳)درج ذیل اقتباس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدیم یونان کے تما م ادبی مباحث کا آغاز ہومر کی تخلیقات سے ہوتا ہے۔
ارتقائی اعتبار سے تو یونانی ادبیات کی تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔انسائیکلوپیڈیا براٹینکا کے مطابق ادوار کی تقسیم کچھ یو ں ہے۔
The history of ancient Greek literature may be divided into three periods: Archaic (to the end of the 6th century BC); Classical (5th and 4th century BC); and Hellenistic and Greco – Roman (3rd century BC and onward)…..(۱۴)


ہومر
ہومر کو دنیا کے پہلے شاعر ہونے کا اعزاز حا صل ہے ۔ ہومر کون تھا اس کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہیں ، یہاں تک کہ قدیم یونانی بھی اس حوالے  سے تذبذب کا شکار ہیں ۔محققین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کے ہومر آٹھویں صدی قبل مسیح میں  ہو گزرا ہے ۔ البتہ کچھ محققین ہومر کا عہد نویں سے بارہویں صدی قبل مسیح بتاتے ہیں ۔جیسا کے ہومر کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف  بالکل اسی طرح اس کے مقام پیدائش کے بارے میں بھی کئی آراء پائی جاتی ہیں ۔"بہر حال ہومر کی جائے  پیدائش کے بارے  میں کوئی بات تیقن کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی لیکن یونانی ادب کے محققین کا  قیاس یہ ہے کہ  اس کی پیدائش یونان کے مغربی ساحل آیونیا کے کسی علاقے میں ہوئی  تھی۔(۱۵)(ASIAMINOR)
ہومر کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ وہ اندھا  تھا یا عمر کے کسی حصے میں اس نے اپنی بینائی کھو دی تھی ۔لیکن ہومر کے اندھا ہونے کے حوالے سے جو بات ہمیں شک میں ڈالتی ہے وہ ہومر کا مشاہدہ ہے۔وہ انتہائی باریکی سے ہمیں جنگ کے میدانوں سے روشناس کراتا ہے اس دوران وہ جن نادر تشبیہات سے کا م لیتا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان کا خالق کیسے اندھا ہوسکتا ہے ۔ اس ضمن میں احمد عقیل روبی رقمطراز ہیں ؛
ان دونوں کتابوں ( یعنی ایلیڈ اور اوڈیسی ) میں سب سے اہم چیز ہومر کا قیامت خیز مشاہدہ ہے
وہ چیزوں کو اتنا قریب سے دیکھتا ہے اور پھر اپنے بیانیہ میں اتنی مہارت سے بیان کرتا ہے کہ
پڑھنے  والے کی عقل دھنگ  رہ جاتی ہے ،بعض نقادوں کو یہ شک ہے کہ کیا ہومر  واقعی اندھا تھا۔۔(۱۶)

ہومر کے اندھا ہونے کے حوالے سے  ایک روایت  ہے جو کافی حد تک مستند بھی ہے کیونکہ وہ خود ہومر کی زبانی ہے ۔ہومر اپالو کے مندر کی دیکھ بھال کرنے والی لڑکیوں سے کہتا ہے :
"جب کوئی شخص تمہارےپاس آئے اور تم سے پوچھے  کہ اے لڑکیوں !اپالو کے اس مندر میں آنے والوں میں وہ کون
ساشاعر کون ساگوّیا ہے جسے تم سب سے زیادہ پسند کرتی ہو ؟تو  تم سب یک زبان ہوکر کہنا ۔وہ نابینا شاعر ، جو (کوئس)کی
پہاڑیوں  میں  رہتا ہے جس کےلکھے گیت اوراشعارہمیشہ  اچھے سمجھے جائیں  گے۔۔(۱۷)

اوپر کے اقتباس یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ہومر واقعی  اندھا تھا،لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا وہ پیدائشی طور پر اندھا تھا   یا بعد میں اسکی بینائی  چلی گئی ۔ اس بارے میں مرزا حامد بیگ کی رائے یہ ہے کہ وہ ایک سیاح کے ہمراہ سفر کےدوران اندھا ہوا  ،آپ لکھتے ہیں؛
مینس کوہومرنےپہلی ہی ملاقات میں اتنا متاثر کیا کہ وہ ہومرکوسفرپراپنے
ہمراہ لے جانے پر بضد ہوا۔مینس نے ہومر کو سفر کے فوا ئدبتائے
اوراسکی شاعرانہ صلاحیتوں کے لیے سفر کوضروری قرار دیا ۔یوں ہومر
اس مالدار سیاح کے ساتھ نگری نگری گھوما۔ہومر کی نظر شروع
سے کمزور تھی اس سفر کے دوران اسکی بینائی  بہت متاثر ہوئی   اور
اتھیکا نامی شہر تک آتے آتے ہومر بینائی   سے ہاتھ دھو بیٹھا۔۔(۱۸)

ہومر کے بارے میں اتنی مبہم باتوں کے باجود اسکی عظمت میں کوئی   فرق نہیں آتا ۔نہ صرف اس وقت بلکہ آج بھی ہومر کا شمار دنیا کے عظیم ترین شعراء میں ہوتا ہے۔اسکی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ افلاطون جیسا شخص بھی ا س کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا ؛ 
سب سے اچھا شاعر اور تمام شاعروں میں سب سے عظیم روحانی شاعر اور تمام ڈرامہ نگاروں میں سب سے پہلا شاعر اورتمام امور میں سب سے عقلمند۔۔۔(۱۹)

یوں تو تاریخ میں ہومر کی عظمت کے بیشتر حوالے موجود ہیں لیکن سب کو یہاں جمع کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ ہر دور میں لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے وقتا فوقتا  ہومر کو عقیدت کے نذرانے پیش کئے ہیں یہ بات شاید ہی کسی کے علم میں نہ ہوورنہ تاریخ گواہ ہے  کہ "ہومر کی وجہ شہرت اس کی دو طویل ایپکس ہیں جن کی وجہ سے اسے ہر عہد کا بڑا مصنف اور لکھاری مانا جاتا ہے۔اگرچہ وہ یونانی بہادروں کی جرا ٔت، شجاعت،بہادری اورانسان دوستی کی مدح سرائی کرتا ہے۔یونانی ثقافت اور طویل طرز زندگی کے نقشے کھینچتا ہے  لیکن یہ سب کچھ اس اسلوب میں بیان کرتا ہے کہ قدیم اور جدید لکھنے والے سر جھکا کر نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں۔ہومر یونان ہے اور یونان ہومر ہے۔۔۔(۲۰)
دنیائےعالم پر ہومر کا اثر
ہومر نہ صرف اپنے عہد کا بلکہ ہر عہد کا عظیم شاعر ہے اور رہے گا۔ ہر دور میں ادیبوں کی بڑی تعداد ہومر کی تقلید کرتی آئی ہے۔"اطالوی زبان کے عظیم شاعر ہوریس نے اپنے دن رات ہومر کی کتابوں کے ساتھ بسر کئے افلاطون اور سقراط نے اسے داد دی۔ارسطو نے بوطیقا کا تانا بانا ہومر کو سامنے رکھ کر بنا۔ارسطو کا شاگرد سکندر اعظم  ایلیڈ کی ایک کاپی ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا تاکہ میدان جنگ میں اپنی فوجوں کو ترتیب وار اس طرح کھڑا کر سکے جس طرح ہومر نے کتاب میں کھڑا کیا ہے۔ہومر کو انگریزی میں سب سے پہلے چمپئن ایڈیشن میں ایلیڈ کا ترجمہ کیا گیا۔جسے پڑھ کر انگریزی کے مشہور شاعر کیٹس نے اپنا مشہور سانٹ لکھا اس کے بعد دوسراا ہم  ترجمہ الیگزنڈر پوپ کا ترجمہ ہے پھر اس کے بعد رچمنڈلیٹی مور،سرولیم مورس اور سمیوئیل بٹلر کے ترجمہ آئے اور ہومر پوری دنیا میں پڑھا جانے لگا اور انگریزی سے دوسری زبانوں میں ترجمے ہونے لگے۔محمد سلیم الرحمٰن نے اوڈیسی کا جہاں گرد کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا اور عالمی ادب ہومر کے اثر سے چھٹکارا نہ پا سکا"۔۔۔(۲۱)

ہومر کا فن
ہومر کے فن کے حوالے سے اگر بات کی جا ئےتو ہمارے سامنے اس کے دو شاہکار رزمیے ہیں جو اسکی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں دیگر تمام امور کی طرح یہاں بھی ناقدین میں اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض احباب ان تخلیقات کو ہومر سے منسوب کرتے ہیں تاہم کچھ اس بات سے انکاری ہیں البتہ جمہور کا فیصلہ یہی ہے کے یہ دونوں ہومر ہی کی تخلیقات ہیں۔ ان رزمیوں کے ذریعےہومر نے دنیا کو اپنی شاعرانہ صلاحیتوں ، صحت مند ذہن اور زبان پر قدرت جیسی خصوصیات سے نہ صرف اس دور بلکہ آنے والے ادوار میں بھی ادب سے شغف رکھنے والے اذہان کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ہومر کی ان رزمیہ نظموں سے ہمیں اس دور کے لوگوں کا رہن سہن ، رسوم ورواج اورمذہبی عقا ئد کا پتہ چلتا ہے۔کیونکہ یہ رزمیہ نظمیں ہیں اس لیے ہومر ہمیں میدان جنگ میں ہی گھومتا پھرتا نظر آتا ہےسب سے اہم شے اس دوران ہومر کا فنکارانہ بیان ہے وہ میدان جنگ کے مناظر کو اس خوبی کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ ہم خود کو میدان کارزار میں کھڑا محسوس کرتے ہیں اور یوں وہ ہمیں ان مشاہدات کے انتہائی قریب تر لے جاتاہے جو اس کے اپنے ہیں۔ ان نظموں میں وہ ہمیں نہ صرف میدان جنگ کے حالات سے روبرو کراتا ہے بلکہ ان میں ہمیں اس دور کے سماج کی تصاویر بھی دکھائی  دیتی ہیں۔اس ضمن میں بار ی علیگ رقمطراز ہیں؛
ہومر کی رزمیہ نظموں کا موضوع تاریخی اعتبار سے  ٹھیک  ہو یا غلط ان کے ذریعے
یونانیوں کی مجلسی اور سیاسی زندگی کا پتہ چلتاہے۔ہومر کی نظموں میں سماج کا ابتدائی
نقشہ دکھائی  دیتا ہے ایک ایسا   سماج جو صرف اور   صرف جنگ کے لیے ترتیب
دیا گیا ہو۔یہ سماج بناوٹ کے  لحاظ سے پدرسری اور قبائلی تھا۔(۲۲)

اس کے علاوہ  یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قدیم یونان کس طبقاتی نظام میں جکڑا ہوا تھا ۔"زمانہ شجاعت کے یونانی گاؤں کی آبادی چار طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ زمین پر امیر قابض تھے دوسرا طبقہ مالک کاشتکاروں کا تھا جن کے پاس تھوڑی بہت زمین ہوتی تھی ،تیسرا طبقہ ان آزاد مزدوروں کا تھا جو اجرت پر کام کرتے تھے،چوتھا طبقہ غلاموں کا تھا "۔۔۔۔۔۔۔(۲۳)
غرض اگر ہومر کی شاعری کو عہد حاضر کی کسی بھی کسوٹی پر پرکھا جائے تو وہ کسی نہ کسی حد تک کھری ثابت ہوتی ہے۔

ہیسوڈ
اگر ہومر شاعری کی دنیا کاآدم ہے تو ہیسوڈ کو آدم ثانی کہنا بے جا نہ ہوگا۔ ہومر کے بعد یونانی ادبیات کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اسے ہیسوڈ جیسا شاعر ملا۔عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ عظیم لوگ تقلید سے متنفر ہوتے ہیں بقول اقبال؛
؎تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے؟؟؟
اگر یہ درست ہے تو پھر ہیسوڈ بھی ایک عظیم شاعر ہے کیونکہ اس نے ہومر جیسے شاعر کی تقلید سےمنہ موڑ کر اپنی راہ نکالی۔ہومر اور ہیسوڈ کے موضوعات میں بڑا تضاد ہے ہومر کے موضوعات میدان کارزار سے متعلق ہیں جبکہ ہیسوڈ کے موضوعات عوامی نوعیت کے ہیں وہ دیہاتوں میں پھرتا نظر آتا ہے اور موسموں کا حال بیان کرتا ہے۔ہیسوڈ نے عمر بھر شادی نہیں کی۔ہیسوڈ کی تصانیف یہ ہیں ؛
۱۔ورکس اینڈ ڈیز ۔
۲۔تھیوگونی۔
۳۔کیٹلاگ آف ویمن۔
۴۔ای اوامی۔
۵۔شیلئر آف ہرکلس۔
سیفو
سیفو کا عہد ساتویں صدی قبل مسیح خیال کیا جاتا ہے۔اسطرح وہ الکائیس کی ہمعصر تھی۔بچپن میں ہی یتیم ہوگئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ وہ کسی نوجوان پر عاشق تھی جسکی وجہ سے اس کے کلام میں عاشقانہ رنگ پایا جاتا ہے۔" اس کی غزل سرائی ایسی پر تاثیر تھی کہ اہل یونان اس کے مفتون و شیدا تھے"۔(۲۴)سیفو سے نو کتابیں منسوب ہیں۔جن میں مرثیہ اور حمدیہ کلام شامل ہے۔

پندار یا پنڈار
پندار یونان کا قومی شاعر ہے۔۔(۲۵)پندار۵۲۲قبل مسیح میں پیدا ہوا ۔اس کا تعلق ایک اسپارٹن خاندان سے تھا۔اس کے کلام کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو گیا۔ اس نے اخلاقی شاعری کی۔
یونانی ڈرامہ
یونانی ڈرامہ کا آغاز شراب کے دیوتا کی تعریف میں کہے جانے والے گیتوں سے ہوا۔۔۔(۲۶)یونان ڈرامے کے باب میں بھی خوش قسمت ہے کہ اسے ابتدا ہی میں ایسے ڈرامہ نگار مل گئے جنہوں نے اس فن کو دوام بخشااس حوالے سے،اسکائی لس،سفوکلیزاوریوریپیڈیز کے نام اہم ہیں۔یاد رہے کہ یہ تینوں المیہ نگار ہیں۔طربیہ کی صنف میں اہم نام ارسطوفینز کا ہے۔یونانی ڈرامہ پر بات کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ المیہ پر سرسری بات کر لی جائے۔
المیہ
المیہ کی تعریف ارسطونے بوطیقامیں یوں کی ہے۔"المیہ نقل ہے ایک ایسے عمل کی جو سنجیدہ اور مکمل ہو۔جس کی زبان ایسے وسائل سے مزین ہو جو اس کے مختلف حصوں میں نمایاں کیے گئے ہوں۔ جس کا طریقہ اظہار بیانیہ ہونے کے بجائے ڈرامائی ہو۔اس کے واقعات خوف اور رحم کے جذبات ابھاریں۔اس طرح ان جذبات کی اصلاح کیتھارسس ہو جائے۔المیہ کی اصطلاح عمومی زندگی کے بطن سے پھوٹ کر ادب کی دنیا میں داخل ہوئی ہے۔زندگی بجنسہ بڑا المیہ ہے اور اس کے متعلقات میں المیاتی سانحے رونما ہوتے رہتے ہیں۔پر المیہ ایک نئی صورت حال کو جنم دیتا ہے"۔۔۔(۲۷)
انسائکلوپیڈیا براٹینکا کے مطابق المیہ کی تعریف کچھ یوں ہے؛
TRAGEDY:  branch of Drama that treats in serious and dignified style the sorrowful or terrible events encountered or caused by a heroic individual.(28)
اسکائیلس
اسکائیلس ۵۲۵ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ قدیم یونانیوں کے مطابق اسے دیوتا ڈایونی سس نے ڈرامہ لکھنے کی طرف مائل کیا۔ اسکائیلس کو ڈرامے کا موجد مانا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر وہاب اشرفی رقم طراز ہیں؛
اسکائیلس ڈرامے کا موجد ہے۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے ڈرامے کی ہیت
اور شکل متعین کی، مکالمہ نگاری کو رواج دیا اور ڈرامے میں دوسرا کردار لایا۔
اس سے قبل ڈراما مونولاگ کی صورت میں ملتا ہے۔ یعنی ایک شخص کسی کہانی کو ایک جگہ کھڑا ہو کر سناتا تھا۔(۲۹)
درج ذیل اقتباس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ڈرامے کو صحیح سمت اسکائیلس نے عطا کی۔یوں تو ڈراما اسکائیلس سےپہلے بھی ملتا ہےلیکن اس کو ہم صحیح معنوں میں ڈراما نہیں کہہ سکتے۔ اس نے کل نوے ڈرامے تخلیق کیے جن میں سے سات ہم تک پہنچے ہیں۔  اس نے اپنا پہلا ڈراما ۲۵ سال کی عمر میں تخلیق کیا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی سلجھا ہوا اسلوب ہے۔ اس کی زبان تشبیہ اور استعارے سے آراستہ ہے۔اسکایئلس کے جو ڈرامے ہم تک مربوط شکل میں پہنچے ہیں وہ درج ذیل ہیں؛
1. Seven Against Thebes
2. Agamennon
3. Cheophoroe
4. Suppliant Women
5. Perisian
6. Prometheus Bound
سوفیکلیز
سوفیکلیز ۴۹۶ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ سونی لس سامان جنگ تیار کرنے والے ایک کارخانے کا مالک تھا۔ سوفیکلیز کو اسکائیلس کے بعد یونان کا سب سے بڑا ڈراما نگار مانا جاتا ہے۔ سوفیکلیز ایڈیپس ریکس کا خالق ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا ڈراما قرار دیا جاتا ہے۔ اس نے ۱۲۰ ڈرامے تصنیف کیے اور ڈرامے میں تیسرے کردار کا اضافہ کیا۔ سوفیکلیز کی انفرادیت اس کے مضبوط نسوانی کردار ہیں۔ ایڈیپس ریکس کے بعد اس کا سب سے مشہور ڈراما الیکٹرا ہے۔
یوری پیڈیز
یوری پیڈیز ۴۸۰ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے تھا۔ یہ المیہ نگاری کا آخری بڑا ڈرامہ نگار تھا۔ اس نے عورتوں کی فطری کمزوریوں کو اپنے ڈراموں میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ اس کے ڈراموں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر اپنے عہد کے گوناگوں رجحانات و میلانات کو لیے ہوئے ہیں۔اس نے کل ۹۵ ڈرامے لکھے جن میں سے ۱۹ آج دستیاب ہیں۔

1. ALCESTIS
2. MEDEA
3. HERACLEIDAE
4. HIPPOLYTUS
5. ANDROMACHE
6. HECUBA
7. THE SUPPLICANTS
8. ELECTRA
9. HERACLES
10. THE TROJAN WOMEN
11. IPHEGENIA IN TRURIS
12. ION
13. HELEN       … (30)

جن ڈراموں کے نام اوپر دیے گئے ہیں وہ مکمل ڈرامے ہیں اس کے علاوہ جو ڈرامے ہیں وہ منتشر اشکال میں ملتے ہیں۔

طربیہ
کامیڈی یا طربیہ کا آغازبقول ارسطو جنسی اور فحش گیتوں سے ہوا۔ کامیڈی کا لفظ''کوم'' سے بنا ہے۔ جس کا مطلب ہے گاؤں۔۔۔۔(۳۱)
یونان کا سب سے مشہور طربیہ نگار ارسطو فینز ہے۔
ارسطوفینز
ارسطوفینز۴۴۸ قبل مسیح میں ایتھنز میں پیدا ہوا اور ۳۸۵کے دوران فوت ہوا۔ اس کے طربیہ ڈراموں میں فحش عناصر پائے جاتے ہیں۔فحاشی اور جنسی مناظر کے ساتھ ساتھ اس کے ہاں اپنے عہد کی سیاست، روزمرہ زندگی اور عصری ادب پر بھی ایک بھرپور طنز پائی جاتی ہے۔(۳۲)
 اس نے اپنا پہلا ڈراما ۴۲۷ قبل مسیح میں لکھا۔ اس نے کل ۵۴ ڈرامے لکھے۔ اس کے اسلوب اور موضوعات میں اتنی جان ہے کہ لوگ آج بھی اسے شوق سے پڑھتے ہیں۔
ایسوپ
ایسوپ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ کہانیاں جانوروں، پرندوں اور درندوں سے متعلق ہیں۔ یہ سبق آموز کہانیاں ہیں جنہیں ''فیبل'' کہا جاتا ہے۔

حوالہ جات
۱۔احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر ۱۵
2.http://www.bratinica.com/art/Greek-literature.
14/10/2018,10:30AM
۳۔وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۸۴
۴۔باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۱
۵۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۸۷
۶۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۹
۷۔ایضاً  صفحہ نمبر ۱۲۰
۸۔ بحوالہ مرتضی احمد خان، وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر ۸۹
۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۰
۱۰۔بادشاہ منیر بخاری ،ڈاکٹر،ولی محمد ،ڈاکٹر،۲۰۱۳ء،اوڈیسی میں اساطیری عناصر  کا تحقیقی و توضیحی تجزیہ،:مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۹،صفحہ نمبر ۲۰۷
۱۱۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۱
۱۲۔حبیب حق ،کلاسیکی یونان : تہذیب،فلسفہ ،فنون لطیفہ،قومی قونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۵۰
۱۳۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۲
14. http://www.bratinica.com/art/Greek-literature.
14/10/2018,10:19 am
۱۵۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۵
۱۶۔احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۲۳
۱۷۔ایضاً صفحہ نمبر ۱۶
18.http://rekhtaurdupoetry.blogspot.com/2014/06/blog-post.html?m=1
14/10/2018,11:20 am
۱۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۶
۲۰۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۱۶
۲۱۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۱۷
۲۲۔۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۳
۲۳۔ایضاً صفحہ نمبر ۱۲۴
۲۴۔ بحوالہ مرتضی احمد خان، وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر ۱۲۶
۲۵۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۴۷
۲۶۔ایضاً
۲۷۔انور جمال،پروفیسر،ادبی اصطلاحات ،نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد،اشاعت سوم ،۲۰۱۶ء، صفحہ نمبر ۴۴
28.http://www.bratanica.com/art/tragedy-literature.
14/10/2018,11:03 am
۲۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۱۵۳
۳۰۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۴۷،۴۸
۳۱۔ایضاًصفحہ نمبر۵۸،۵۷
۳۲۔ایضاً صفحہ نمبر ۵۷
عقیل احمد شاہ ، بی ایس میقات پنجم،شعبہ اردو جامعہ پشاور 

No comments:

Post a Comment