Saturday, 15 June 2019

 سوانح نگاری (ایک مطالعہ)

سوانح  کے لغوی معنی   ماجرے ،احوالات ،واقعات ،حاداثات ،حوادث اورسانحہ کے ہیں۔سوانح عمری  کے لغوی معنی   سرگزشت ، کسی شخص کی زندگی کا حال ،تذکرہ کسی عالم خواہ فاضال خواہ بڑے بڑے کام کرنے والے یا بہادر یا حاکم کے وہ واقعات جو اس کی عمر میں گزرے ہوں ۔ (فرہنگِ آصفیہ جلد دوم صفحہ نمبر ۱۱۱)
سوانح نگاری اردو ادب کی اہم صنف ِ سخن ہے     ۔ جس میں عموما ً   کسی اہم شخصیت  کے واقعاتِ زندگی کو تفصیلاً بیان کیا جاتا ہے ۔اصطلاحاًسوانح نگاری  کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ ’’ کسی شخصیت کی زندگی کے تمام واقعات کو پیدائش سے لے کر موت  تک تفصیل سے بیان کر دینے  کو سوانح نگاری کہتے ہیں ‘‘تاہم اس حوالے سے ناقد ین نے مختلف اوقات میں سوانح نگاری کی   مختلف   تعریفیں کی    ہیں     ۔کشاف تنقیدی اصطلاحات میں سوانح نگاری کی تعریف ان الفاط میں کی گئی  ہے:
’’ادب کی دنیا میں  حیات ،سوانح ، سوانح عمری ،یا لائف سے مراد عصر، نسل اور ماحول جیسے مؤثرات کے حوالے سے  کسی شخص کی داخلی اور خارجی  زندگی کے تمام اہم پہلوؤں  کا ایسا جامع ، مفصل اور معروضی مطالعہ ، جو اس کی زندگی کے ارتقا اور ااس کے ظاہر  و باطن کو روشنی میں لا کر اس کی ایک قد آدم او رجیتی جاگتی تصویر پیش کر سکے جس پر کسی اور کی تصویر ہونے کا مطلق گمان نہ گزرے‘‘۔۔(۱)
سوانح نگاری کے حوالے سے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں :
’’سوانح نگاری وہ  صنف ِ ادب ہے جس میں کسی فرد کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام واقعات ،اس کی ذہنی و عقلی نشونما کے مختلف مراحل اور  اس کے شخصی کارناموں وغیرہ کو بہ تفصیل بیان کیا جائے‘‘۔۔(۲)
ڈاکٹر عبدالقیوم   نے سوانح  کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے :
’’سوانح نہ تو تاریخ ہے اور نا تو افسانہ  بلکہ وہ تایخ کی بے وقعت سچائی اور  افسانے کی  غیر حقیقی زندگی  دونوں کے درمیان کی چیز ہے ‘‘۔۔(۳)
ڈاکٹر سنبل نگار سوانح کے ضمن میں رقمطراز ہیں :
’’سوانح ایسی  تصنیف ہے جس میں کسی شخصیت کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کی ایسی تصویر پیش کی جاتی ہے جو ہر لحاظ سے مکمل ہو ،اس میں پیش کئے گئے واقعاات قارئین کے لیے پر کشش ہوں ،انداز بیان پر تاثیر ہو‘‘۔۔(۴)


ڈاکٹر تنویر حسین نے سوانح کی تعریف یوں کی ہے :
کسی شخص کی زندگی پر اس انداز سے قلم اٹھا نا کہ اس شخص کے بچپن ، جوانی،بڑھاپا،ملازمت،خدمات،مزاج اور  عادات و خصائل  کی مکمل تصویر آنکھوں  کے سامنے آجائے۔۔(۵)
گویا ہم بحیثیتِ مجموعی  ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سوانح نگاری ایسی صنفِ ادب ہے جس میں کسی فرد کی داستانِ حیات کو نہ صرف جامع انداز  میں پیش کیا جاتا ہے بلکہ ان حالات کو  حوالہ قلم کرتے وقت  اظہار کا ایسا پیرایہ اختیار کیا جاتا ہے جو مؤثر ہو اور ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ سوانح میں پیش کئے گئے واقعات غیر معمولی  اہمیت کے حامل ہوں ۔  سوانح نگاری کے بارے میں کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ باقاعدہ طور پر کوئی علیحدہ صنفِ ادب نہیں ،اور موضوع کے حوالے سے مقالہ نگاری ہی کی ایک قسم ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں :
’’سوانح عمری،دراصل مقالہ نویسی ہی کی ایک شکل ہے ۔ یہ کوئی الگ صنفِ نثر نہیں ،بااعتبار موضوع مقالہ ہی کی ایک قسم ہے‘‘۔(۶)

  فنِ سوانح نگاری:
سوانح لکھنا ایک بہت ہی دشوار  کام ہے ۔اس فن کو کامیابی کے ساتھ برتنا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ اس میں ناول یا افسانے کی مانند کسی خیالی وجود کو پیش نہیں کیا جاتا بلکہ ایک حقیقی  شخصیت کی زندگی کی روداد  لکھی جاتی ہے یہ ایک ایسی زندگی کی کہانی ہوتی ہے جسے کچھ کو لوگوں نے دیکھا  ،سنا اور محسوس کیا ہوتا ہے جس کے ساتھ کچھ اور زندگیاں بھی جڑی ہوتی ہیں ،ایسی صورتِ حال میں ذرا سی کوتاہی بھی لکھاری اور موضوع شخصیت  کو بہت بڑا نقصان پہنچا  سکتی ہے ، لہٰذا اس میدان میں ہر قدم پھونک  پھونک کر رکھنا پڑتا ہے ۔
سوانح لکھتے وقت ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ سوانح میں کسی فرد کی خارجی  زندگی کے ساتھ ساتھ داخلی پہلوؤں  کو بھی ممکنہ حد تک   پیش کیا جائے اور ان عوامل پر ضرور روشنی ڈالی جائے جنہوں نے اس شخصیت کی  تعمیر میں کردار ادا کیا  ،اور ہوسکے تو موضوع شخصیت کی ذہنی اور نفسیاتی  سطح   کو بھی اچھی طرح سمجھ بوجھ کر حوالہ قلم کر دیا جائے ،تاکہ قاری اس شخصیت کے ظاہر کے ساتھ ساتھ  کسی حد تک اس کے باطن اور داخل سے بھی  واقف ہوجائے ۔سوانح نگار کو چاہیئے کے وہ اپنی موضوع شخصیت کے دونوں رخ اپنے   قارئین کے سامنے پیش کرے  اور خارجی کیفیات کے ساتھ ساتھ  مو ضوع شخصیت کے باطن کو بھی پیش کرے ۔’’سوانح میں کسی فرد کی پیدائش ، خاندان،مصروفیات ہی نہیں بلکہ اس کی  شخصیت کے مختلف  پہلوؤں، اس کے رویوں ،  اخلاق و عادات ،کرداری اور نفسیاتی خصوصیات  ،اور  اسکی زندگی کے نشیب و فراز کو سامنے رکھا  جاتا ہے‘‘۔(۷)
اس  حولے سے ڈاکٹر عبدالقیوم  کی رائے کافی اہمیت کی حامل ہے:
’’سوانح محض انسان کی پیدائش ، خاندان، تعلیم ، مشاغل ِ زندگی اور وفات کا بیان  ہی  نہیں  بل کہ کسی فرد  کے ظاہر و باطن،عادات و اطوار، اخلاق و معاشرت، وراثت اور نفسیاتی کیفیت اور اس کی   زندگی کی داستان بن گئی ہے۔۔(۸)
سوانح نگار  کے سامنے پہلا مسئلہ شخصیت کا انتخاب ہے ، اگر وہ کسی ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جسے وہ ذاتی طور پر نہ جانتا  ہو تو اس حوالے  سے اسے کافی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑ سکتا ہے  ،اور اگر وہ ایسی شخصیت کا انتخاب کرتا ہے جس کے ساتھ اس نے وقت گزارا ہو اور ذاتی  جان پہچان ہو تو ایسی  صورت میں  کافی مشکلات سے  بچا جا سکتا ہے ۔عمومی طور پر سونح نگار کسی بڑی شخصیت سے متاثر  ہو کر سوانح لکھتا ہے  اور ایسی صورت میں موضوع شخصیت کے ساتھ  عقیدت اور ارادت  اس فعل کے پیچھے کار فرما ہوتی ہے ،لہٰذا  سوانح نگار کو اس بات خیال رکھنا چاہیئے کے موضوع شخصیت کے وہ اپنے فن کو اس عقیدت اور ارادت پر قربان ہونے سے روکے اور انسان کو تمام تر بشری تقاضوں کے ساتھ پیش کرے    ۔ ایک اور اہم نکتہ  اس حوالے سے واقعات کا  انتخاب ہے   ،سوانح نگار کو چاہیئے کہ وہ ایسے واقعات کا انتخاب کرے  کہ جن واقعات نے موضوع شخصیت کی  زندگی میں کوئی اہم کردار ادا کیا ہو جو انقلاب کا باعث بنے ہوں اور ان واقعات     سے اس شخص کی زندگی کا نکتہ نظر بدل کر رکھ دیا ہو جیسے سرسید کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ۱۸۵۷ءکی جنگِ آزادی ہے ۔ سوانح میں دلچسپی کا ہونا  بہت ضروری ہے کیونکہ دلچسپی کے بغیر کسی شخص کی پوری زندگی کا مطالعہ محال ہے ۔سوانح محض واقعات کا ڈھیر نہ ہو بلکہ  واقعات میں ترتیب اور ربط کا ہونا بہت ضروری ہے ، سوانح میں سب سے اہم شے  جامعیت اور  اختصار  ہے ، لہٰذا   سوانح میں اختصار کام لینا ضروری ہے۔

مواد کی فراہمی:
مواد کے سلسلے میں جن وسائل کو عموماً بروئے کار لایا جاتا ہے وہ یہ ہیں :
ڈائری ،خطوط، انٹرویو، دوست احباب، سرکاری ریکاڈ، پہلے سے لکھی  گئی سوانح عمریاں ، آپ بیتی وغیرہ
ڈائری:
اگر  موضوع شخص ڈائری لکھتا ہو تو اس سے بہت کچھ استفادہ کیا  جاسکتا ہے ۔کیونکہ اس میں روزمرہ کے واقعات  تفصیل سے  لکھے  جاتے ہیں اور اس میں شک شبے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ اس کا لکھنے والا وہ فرد خود ہے اور انسان اپنے آپ  کو سب سے بہتر  طور پر خود  ہی پیش کرسکتا ہے ۔
خطوط:
اگر موضوع شخصیت کے کچھ خطوط  دستیاب ہوں تو ان سے بھی اس شخصیت کو سمجھنے میں کافی مدد مل سکتی ہے  ۔


انٹرویو:
اگر  مو ضوع شخصیت  نے ٹی وی ، ریڈیو، یا اخبار میں کوئی انٹرویو چھپا ہو تو اس سے بھی کافی مدد لی جاسکتی ہے  اور اس شخص کے کسی شے یا فن کے بارے میں نظریات کا پتہ لگایا جاسکتاہے۔
رشتہ دار ، دوست :
عادات واطوار کے سلسلے میں دوستوں اور گھر کے لوگوں  سے رہنمائی لی جاسکتی ہے  ،مثلاً اس شخص کا مزاج کیسا  تھا ،اس کا رویہ کیسا تھا، کیا پسند کرتے تھے ،کیا نا پسند تھا ،کیا پہنتے تھے  کیسے بولتے  تھے  کن لوگوں سے ملتے تھے ،وغیرہ
پہلے سے لکھی گئی سوانح عمریاں:
اگر موضوع شخصیت پر اس سے پہلے سوانح کے حوالے سے کام ہوچکا ہو تو اس کو بھی سامنے رکھنا بہت ضروری ہے ۔
آپ بیتی:
اگر کسی آپ بیتی نگار کی سوانح لکھنا مقصود ہو تو ایسی صورت میں اس آپ بیتی کا مطا لعہ کرنا فائدے سے خالی نہیں ۔
اردو میں سوانح نگاری:
اردو میں تنقید کی طرح سوانح کا موجد بھی الطاف حسین حالی کو تسلیم کیا گیا ہے ،اور حالی کی حیات ِ سعدی کو اردو ادب کی پہلی سوانح عمری تسلیم کیا  گیا ہے ۔اگر ہم سوانح  کے ارتقاء کی بات کریں تو  سوانح کے ابتدائی خدوخال کو دکن کی مثنویوں میں  بھی دیکھا جا سکتا ہے  ۔
ڈاکٹر سنبل نگار اس حوالے سے رقمطراز ہیں :
’’ سوانح  نگاری کا آغاز و ارتقاء ابتداء  دکن میں ہوا ۔ وہاں کی مثنویوں میں سوانح کے ابتدائی نقوش دیکھے جاسکتے ہیں ۔ نصرتی نے اپنے والد، اپنے مربی علی عادل شاہ اور دیگر شخصیتوں کی سیرت و سوانح نہایت عمدگی سے بیا ن کی ہے‘‘۔(۹)



حیات سعدی :
حیات ِ سعدی اردو ادب کی پہلی باقاعدہ سوانح عمری ہے ۔ حیاتِ سعدی کا سنِ تصنیف ۱۸۸۶ء ہے۔یہ کتاب مشہورِ زمانہ فارسی شاعر  شیخ سعدی کی سوانح عمری ہے ۔ ترتیب کے لحاظ سے یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے ۔پہلے حصے میں شیخ صاحب کی حیات جبکہ دوسرے حصے میں ان کی شاعری  اور فن پر بحث کی گئی ہے۔
 یادگارِ غالب:
یادگار ِ غالب سوانح کے میدان میں دوسری عملی کوشش ہے  ،یہ کتاب ۱۸۹۴ء میں مکمل ہوئی ۔اس کتاب کو شیخ اکرام نے شاہکار تصنیف کہا ہے ۔ مولانا حالی کو غالب سے بے حڈ عقیدت تھی ، اور غالب کے حوالے سے  مواد کا جمع کرنا  بھی کوئی اتنا مشکل کام نہ تھا کیونکہ آپ خود مرزا کے حلقہ احباب میں شامل تھے ۔تاہم انہوں نے جفا کشی سے کام لیتے ہوئے غالب کی تصانیف کا  مطالعہ کر کے اس   کاحا صل بھی اس کتاب کے دوسرے حصے میں پیش کیا ۔اس کتاب کی ایک اور بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ غالبیات کی دنیا کی پہلی کتاب کا اعزاز رکھتی ہے۔
حیاتِ جاوید:
حیاتِ جاوید مولانا الطاف حسین   حالی کی تیسری سوانح عمری ہے ۔ یہ کتاب سرسید احمد خان کی زندگی کے واقعات پر ایک جامع اور مکمل کتاب ہے ۔حالی نے یہ کتاب ۱۸۹۳ء میں لکھنی شروع کی او ر ۱۹۰۱ء میں اسکتاب کو پایہ تکمیل کو پہنچایا ۔ اس کتاب میں حالی کا فن مکمل طور پر کھل کر سامنے آیا ہے جو کہ یادگارِ غالب اور حیاتِ سعدی کے دوران کسی قدر پختہ ہوچکا تھا ۔حالی کی تینوں سوانحی کتابوں میں یہ سب سے جامع اور مبسوط کتاب ہے۔اس کتاب کی تیاری کے سلسلے میں انہوں نے علی گڑھ کا سفر بھی کیا  اور وہاں رہ کر تمام  مواد سے  فائدہ لیا ۔اس  کے لیے انہوں نے ’’سیرتِ فریدیہ ‘‘ سے بھی استفادہ کیا اور پہلے سے لکھی گئی سرسید کی   سوانح سے بھی خاطر خواہ استفادہ کیا ۔حالی کو اس بات کا بہت ملال تھا کہ سرسید کی سوانح کے سلسلے میں پہلا کام وہ نہ کرسکے اور یہ اعزاز  انہیں نہ مل سکا ۔اس کتاب میں حالی کا سوانح شعور اور فن پوری  طرح نکھر کر سامنے آیا۔ حیاتِ جاوید کے بارے میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی رقمطراز ہیں ۔
’’حقیقی معنوں میں اردو کی پہلی باضابطہ اور باقاعدہ سوانح عمری ’’حیاتِ جاوید ‘‘ ہے۔‘‘۔۔(۱۰)
حیاتِ جاوید  کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حیاتِ سعدی اور یاد گار غالب لکھتے وقت  حالی کا سوانحی شعور  برابر  ارتقاء کے مراحل طے کرتا رہا  اورر ان کا فن پہلی  بار ’’حیاتِ جاوید ‘‘میں کھل کر سامنے آیا۔شاید اسی وجہ سے ناقدین کی اکثریت نے حیاتِ جاوید کو اردو  ادب کی پہلی باقاعدہ سوانح تسلیم کیا ہے ۔ اس باب میں سید عبداللہ لکھتے ہیں۔
’’سوانح نگاری کے فن میں حیاتِ  جاوید  پہلی منظم اور کامیاب کوشش ہے‘‘۔۔(۱۱)
حالی کو جہاں ناقدین  نے حیات  جاوید کے حوالے سے  بہت سراہا وہاں کچھ ناقدین نے حالی کو  کڑی تنقید کا نشانہ بنایا  جن میں علامہ شبلی نعمانی     سرِ فہرست ہیں ۔ مولانا شبلی نے ’’ حیات جاوید ‘‘ کو  ’’کتاب المناقب ‘‘ قرار دیا ۔ اس حوالے سے اگر انصاف  کیا جائے تو بہت کچھ کیا دھرا خود حالی کا بھی ہے ، ایک طرف تو وہ ’’حیات ِ جاوید ‘‘  کے دیباچہ  میں  لکھتے ہیں کہ ’’نکتہ چینی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے‘‘۔(۱۲)
تو دوسری جانب خود ہی اپنے اس دعوے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے  نظر آتے ہیں  مزید برآں لکھتے ہیں ’’ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ کسی شخص کی بائیو گرافی کریٹیکل طریقے سے لکھی جائے‘‘۔(۱۳)
حیات  جاوید  کی خوبیوں اور خامیوں کے  باب میں ڈاکٹر رفیع الدین رقمطراز  ہیں ۔
’’بلاشبہ ’’ حیاتِ جاوید ‘‘ میں کمیاں اور خامیاں موجود ہیں مگر حالی  نے سوانح عمری کے باب میں جو کچھ کیا وہ قابلِ  ستائش اور بہت سے مابعد  سوانح نگاروں کے لیے لائقِ رشک ہے جو کچھ وہ نہیں کر سکے  اس کے لیے انہیں معذور سمجھنا چاہیئے‘‘۔۔(۱۴)
حالی چونکہ ایک نہایت شریف اور بامروّت  انسان تھے لہٰذا ان کے لیے ان لوگوں کی خامیا ں اور کجیاں کھل کر پیش کرنا ممکن نہ تھا  جن سے وہ انتہائی محبت اور عقیدت رکھتے تھے ۔
بحیثیت مجموعی اگر  دیکھا جائے تو حالی نے   سوانح نگاری کی صنف کو کافی تقویت بخشی ۔وہ اردو  ادب میں پہلے  سوانح نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ ان سے پہلے اس فن کی جانب  کسی نے خاص توجہ نہیں  دی۔حالی نے کل تین سوانح عمریاں لکھی اور ان تینوں  سوانح  عمریوں میں انہوں نے سادہ ، سہل اور سلیس زبا ن کا استعمال کیا لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ سادگی کے باوجود انکی زبان عامیانہ پن سے پاک ہے۔
المامون:
المامون علامہ شبلی نعمانی کی پہلی سوانحی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب ۱۸۸۷ء ۱۸۸۹ء میں مکمل ہوئی ۔



No comments:

Post a Comment