سوانح نگاری (ایک مطالعہ)
سوانح کے لغوی معنی ماجرے ،احوالات ،واقعات ،حاداثات ،حوادث اورسانحہ کے ہیں۔سوانح عمری کے لغوی معنی سرگزشت ، کسی شخص کی زندگی کا حال ،تذکرہ کسی عالم خواہ فاضال خواہ بڑے بڑے کام کرنے والے یا بہادر یا حاکم کے وہ واقعات جو اس کی عمر میں گزرے ہوں ۔ (فرہنگِ آصفیہ جلد دوم صفحہ نمبر ۱۱۱)
سوانح نگاری اردو ادب کی اہم صنف ِ سخن ہے ۔ جس میں عموما ً کسی اہم شخصیت کے واقعاتِ زندگی کو تفصیلاً بیان کیا جاتا ہے ۔اصطلاحاًسوانح نگاری کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ ’’ کسی شخصیت کی زندگی کے تمام واقعات کو پیدائش سے لے کر موت تک تفصیل سے بیان کر دینے کو سوانح نگاری کہتے ہیں ‘‘تاہم اس حوالے سے ناقد ین نے مختلف اوقات میں سوانح نگاری کی مختلف تعریفیں کی ہیں ۔کشاف تنقیدی اصطلاحات میں سوانح نگاری کی تعریف ان الفاط میں کی گئی ہے:
’’ادب کی دنیا میں حیات ،سوانح ، سوانح عمری ،یا لائف سے مراد عصر، نسل اور ماحول جیسے مؤثرات کے حوالے سے کسی شخص کی داخلی اور خارجی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کا ایسا جامع ، مفصل اور معروضی مطالعہ ، جو اس کی زندگی کے ارتقا اور ااس کے ظاہر و باطن کو روشنی میں لا کر اس کی ایک قد آدم او رجیتی جاگتی تصویر پیش کر سکے جس پر کسی اور کی تصویر ہونے کا مطلق گمان نہ گزرے‘‘۔۔(۱)
سوانح نگاری کے حوالے سے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں :
’’سوانح نگاری وہ صنف ِ ادب ہے جس میں کسی فرد کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام واقعات ،اس کی ذہنی و عقلی نشونما کے مختلف مراحل اور اس کے شخصی کارناموں وغیرہ کو بہ تفصیل بیان کیا جائے‘‘۔۔(۲)
ڈاکٹر عبدالقیوم نے سوانح کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے :
’’سوانح نہ تو تاریخ ہے اور نا تو افسانہ بلکہ وہ تایخ کی بے وقعت سچائی اور افسانے کی غیر حقیقی زندگی دونوں کے درمیان کی چیز ہے ‘‘۔۔(۳)
ڈاکٹر سنبل نگار سوانح کے ضمن میں رقمطراز ہیں :
’’سوانح ایسی تصنیف ہے جس میں کسی شخصیت کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کی ایسی تصویر پیش کی جاتی ہے جو ہر لحاظ سے مکمل ہو ،اس میں پیش کئے گئے واقعاات قارئین کے لیے پر کشش ہوں ،انداز بیان پر تاثیر ہو‘‘۔۔(۴)
ڈاکٹر تنویر حسین نے سوانح کی تعریف یوں کی ہے :
کسی شخص کی زندگی پر اس انداز سے قلم اٹھا نا کہ اس شخص کے بچپن ، جوانی،بڑھاپا،ملازمت،خدمات،مزاج اور عادات و خصائل کی مکمل تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔۔(۵)
گویا ہم بحیثیتِ مجموعی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سوانح نگاری ایسی صنفِ ادب ہے جس میں کسی فرد کی داستانِ حیات کو نہ صرف جامع انداز میں پیش کیا جاتا ہے بلکہ ان حالات کو حوالہ قلم کرتے وقت اظہار کا ایسا پیرایہ اختیار کیا جاتا ہے جو مؤثر ہو اور ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ سوانح میں پیش کئے گئے واقعات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوں ۔ سوانح نگاری کے بارے میں کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ باقاعدہ طور پر کوئی علیحدہ صنفِ ادب نہیں ،اور موضوع کے حوالے سے مقالہ نگاری ہی کی ایک قسم ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں :
’’سوانح عمری،دراصل مقالہ نویسی ہی کی ایک شکل ہے ۔ یہ کوئی الگ صنفِ نثر نہیں ،بااعتبار موضوع مقالہ ہی کی ایک قسم ہے‘‘۔(۶)
فنِ سوانح نگاری:
سوانح لکھنا ایک بہت ہی دشوار کام ہے ۔اس فن کو کامیابی کے ساتھ برتنا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ اس میں ناول یا افسانے کی مانند کسی خیالی وجود کو پیش نہیں کیا جاتا بلکہ ایک حقیقی شخصیت کی زندگی کی روداد لکھی جاتی ہے یہ ایک ایسی زندگی کی کہانی ہوتی ہے جسے کچھ کو لوگوں نے دیکھا ،سنا اور محسوس کیا ہوتا ہے جس کے ساتھ کچھ اور زندگیاں بھی جڑی ہوتی ہیں ،ایسی صورتِ حال میں ذرا سی کوتاہی بھی لکھاری اور موضوع شخصیت کو بہت بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے ، لہٰذا اس میدان میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے ۔
سوانح لکھتے وقت ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ سوانح میں کسی فرد کی خارجی زندگی کے ساتھ ساتھ داخلی پہلوؤں کو بھی ممکنہ حد تک پیش کیا جائے اور ان عوامل پر ضرور روشنی ڈالی جائے جنہوں نے اس شخصیت کی تعمیر میں کردار ادا کیا ،اور ہوسکے تو موضوع شخصیت کی ذہنی اور نفسیاتی سطح کو بھی اچھی طرح سمجھ بوجھ کر حوالہ قلم کر دیا جائے ،تاکہ قاری اس شخصیت کے ظاہر کے ساتھ ساتھ کسی حد تک اس کے باطن اور داخل سے بھی واقف ہوجائے ۔سوانح نگار کو چاہیئے کے وہ اپنی موضوع شخصیت کے دونوں رخ اپنے قارئین کے سامنے پیش کرے اور خارجی کیفیات کے ساتھ ساتھ مو ضوع شخصیت کے باطن کو بھی پیش کرے ۔’’سوانح میں کسی فرد کی پیدائش ، خاندان،مصروفیات ہی نہیں بلکہ اس کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں، اس کے رویوں ، اخلاق و عادات ،کرداری اور نفسیاتی خصوصیات ،اور اسکی زندگی کے نشیب و فراز کو سامنے رکھا جاتا ہے‘‘۔(۷)
اس حولے سے ڈاکٹر عبدالقیوم کی رائے کافی اہمیت کی حامل ہے:
’’سوانح محض انسان کی پیدائش ، خاندان، تعلیم ، مشاغل ِ زندگی اور وفات کا بیان ہی نہیں بل کہ کسی فرد کے ظاہر و باطن،عادات و اطوار، اخلاق و معاشرت، وراثت اور نفسیاتی کیفیت اور اس کی زندگی کی داستان بن گئی ہے۔۔(۸)
سوانح نگار کے سامنے پہلا مسئلہ شخصیت کا انتخاب ہے ، اگر وہ کسی ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جسے وہ ذاتی طور پر نہ جانتا ہو تو اس حوالے سے اسے کافی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑ سکتا ہے ،اور اگر وہ ایسی شخصیت کا انتخاب کرتا ہے جس کے ساتھ اس نے وقت گزارا ہو اور ذاتی جان پہچان ہو تو ایسی صورت میں کافی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے ۔عمومی طور پر سونح نگار کسی بڑی شخصیت سے متاثر ہو کر سوانح لکھتا ہے اور ایسی صورت میں موضوع شخصیت کے ساتھ عقیدت اور ارادت اس فعل کے پیچھے کار فرما ہوتی ہے ،لہٰذا سوانح نگار کو اس بات خیال رکھنا چاہیئے کے موضوع شخصیت کے وہ اپنے فن کو اس عقیدت اور ارادت پر قربان ہونے سے روکے اور انسان کو تمام تر بشری تقاضوں کے ساتھ پیش کرے ۔ ایک اور اہم نکتہ اس حوالے سے واقعات کا انتخاب ہے ،سوانح نگار کو چاہیئے کہ وہ ایسے واقعات کا انتخاب کرے کہ جن واقعات نے موضوع شخصیت کی زندگی میں کوئی اہم کردار ادا کیا ہو جو انقلاب کا باعث بنے ہوں اور ان واقعات سے اس شخص کی زندگی کا نکتہ نظر بدل کر رکھ دیا ہو جیسے سرسید کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ۱۸۵۷ءکی جنگِ آزادی ہے ۔ سوانح میں دلچسپی کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ دلچسپی کے بغیر کسی شخص کی پوری زندگی کا مطالعہ محال ہے ۔سوانح محض واقعات کا ڈھیر نہ ہو بلکہ واقعات میں ترتیب اور ربط کا ہونا بہت ضروری ہے ، سوانح میں سب سے اہم شے جامعیت اور اختصار ہے ، لہٰذا سوانح میں اختصار کام لینا ضروری ہے۔
مواد کی فراہمی:
مواد کے سلسلے میں جن وسائل کو عموماً بروئے کار لایا جاتا ہے وہ یہ ہیں :
ڈائری ،خطوط، انٹرویو، دوست احباب، سرکاری ریکاڈ، پہلے سے لکھی گئی سوانح عمریاں ، آپ بیتی وغیرہ
ڈائری:
اگر موضوع شخص ڈائری لکھتا ہو تو اس سے بہت کچھ استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ اس میں روزمرہ کے واقعات تفصیل سے لکھے جاتے ہیں اور اس میں شک شبے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ اس کا لکھنے والا وہ فرد خود ہے اور انسان اپنے آپ کو سب سے بہتر طور پر خود ہی پیش کرسکتا ہے ۔
خطوط:
اگر موضوع شخصیت کے کچھ خطوط دستیاب ہوں تو ان سے بھی اس شخصیت کو سمجھنے میں کافی مدد مل سکتی ہے ۔
انٹرویو:
اگر مو ضوع شخصیت نے ٹی وی ، ریڈیو، یا اخبار میں کوئی انٹرویو چھپا ہو تو اس سے بھی کافی مدد لی جاسکتی ہے اور اس شخص کے کسی شے یا فن کے بارے میں نظریات کا پتہ لگایا جاسکتاہے۔
رشتہ دار ، دوست :
عادات واطوار کے سلسلے میں دوستوں اور گھر کے لوگوں سے رہنمائی لی جاسکتی ہے ،مثلاً اس شخص کا مزاج کیسا تھا ،اس کا رویہ کیسا تھا، کیا پسند کرتے تھے ،کیا نا پسند تھا ،کیا پہنتے تھے کیسے بولتے تھے کن لوگوں سے ملتے تھے ،وغیرہ
پہلے سے لکھی گئی سوانح عمریاں:
اگر موضوع شخصیت پر اس سے پہلے سوانح کے حوالے سے کام ہوچکا ہو تو اس کو بھی سامنے رکھنا بہت ضروری ہے ۔
آپ بیتی:
اگر کسی آپ بیتی نگار کی سوانح لکھنا مقصود ہو تو ایسی صورت میں اس آپ بیتی کا مطا لعہ کرنا فائدے سے خالی نہیں ۔
اردو میں سوانح نگاری:
اردو میں تنقید کی طرح سوانح کا موجد بھی الطاف حسین حالی کو تسلیم کیا گیا ہے ،اور حالی کی حیات ِ سعدی کو اردو ادب کی پہلی سوانح عمری تسلیم کیا گیا ہے ۔اگر ہم سوانح کے ارتقاء کی بات کریں تو سوانح کے ابتدائی خدوخال کو دکن کی مثنویوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔
ڈاکٹر سنبل نگار اس حوالے سے رقمطراز ہیں :
’’ سوانح نگاری کا آغاز و ارتقاء ابتداء دکن میں ہوا ۔ وہاں کی مثنویوں میں سوانح کے ابتدائی نقوش دیکھے جاسکتے ہیں ۔ نصرتی نے اپنے والد، اپنے مربی علی عادل شاہ اور دیگر شخصیتوں کی سیرت و سوانح نہایت عمدگی سے بیا ن کی ہے‘‘۔(۹)
حیات سعدی :
حیات ِ سعدی اردو ادب کی پہلی باقاعدہ سوانح عمری ہے ۔ حیاتِ سعدی کا سنِ تصنیف ۱۸۸۶ء ہے۔یہ کتاب مشہورِ زمانہ فارسی شاعر شیخ سعدی کی سوانح عمری ہے ۔ ترتیب کے لحاظ سے یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے ۔پہلے حصے میں شیخ صاحب کی حیات جبکہ دوسرے حصے میں ان کی شاعری اور فن پر بحث کی گئی ہے۔
یادگارِ غالب:
یادگار ِ غالب سوانح کے میدان میں دوسری عملی کوشش ہے ،یہ کتاب ۱۸۹۴ء میں مکمل ہوئی ۔اس کتاب کو شیخ اکرام نے شاہکار تصنیف کہا ہے ۔ مولانا حالی کو غالب سے بے حڈ عقیدت تھی ، اور غالب کے حوالے سے مواد کا جمع کرنا بھی کوئی اتنا مشکل کام نہ تھا کیونکہ آپ خود مرزا کے حلقہ احباب میں شامل تھے ۔تاہم انہوں نے جفا کشی سے کام لیتے ہوئے غالب کی تصانیف کا مطالعہ کر کے اس کاحا صل بھی اس کتاب کے دوسرے حصے میں پیش کیا ۔اس کتاب کی ایک اور بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ غالبیات کی دنیا کی پہلی کتاب کا اعزاز رکھتی ہے۔
حیاتِ جاوید:
حیاتِ جاوید مولانا الطاف حسین حالی کی تیسری سوانح عمری ہے ۔ یہ کتاب سرسید احمد خان کی زندگی کے واقعات پر ایک جامع اور مکمل کتاب ہے ۔حالی نے یہ کتاب ۱۸۹۳ء میں لکھنی شروع کی او ر ۱۹۰۱ء میں اسکتاب کو پایہ تکمیل کو پہنچایا ۔ اس کتاب میں حالی کا فن مکمل طور پر کھل کر سامنے آیا ہے جو کہ یادگارِ غالب اور حیاتِ سعدی کے دوران کسی قدر پختہ ہوچکا تھا ۔حالی کی تینوں سوانحی کتابوں میں یہ سب سے جامع اور مبسوط کتاب ہے۔اس کتاب کی تیاری کے سلسلے میں انہوں نے علی گڑھ کا سفر بھی کیا اور وہاں رہ کر تمام مواد سے فائدہ لیا ۔اس کے لیے انہوں نے ’’سیرتِ فریدیہ ‘‘ سے بھی استفادہ کیا اور پہلے سے لکھی گئی سرسید کی سوانح سے بھی خاطر خواہ استفادہ کیا ۔حالی کو اس بات کا بہت ملال تھا کہ سرسید کی سوانح کے سلسلے میں پہلا کام وہ نہ کرسکے اور یہ اعزاز انہیں نہ مل سکا ۔اس کتاب میں حالی کا سوانح شعور اور فن پوری طرح نکھر کر سامنے آیا۔ حیاتِ جاوید کے بارے میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی رقمطراز ہیں ۔
’’حقیقی معنوں میں اردو کی پہلی باضابطہ اور باقاعدہ سوانح عمری ’’حیاتِ جاوید ‘‘ ہے۔‘‘۔۔(۱۰)
حیاتِ جاوید کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حیاتِ سعدی اور یاد گار غالب لکھتے وقت حالی کا سوانحی شعور برابر ارتقاء کے مراحل طے کرتا رہا اورر ان کا فن پہلی بار ’’حیاتِ جاوید ‘‘میں کھل کر سامنے آیا۔شاید اسی وجہ سے ناقدین کی اکثریت نے حیاتِ جاوید کو اردو ادب کی پہلی باقاعدہ سوانح تسلیم کیا ہے ۔ اس باب میں سید عبداللہ لکھتے ہیں۔
’’سوانح نگاری کے فن میں حیاتِ جاوید پہلی منظم اور کامیاب کوشش ہے‘‘۔۔(۱۱)
حالی کو جہاں ناقدین نے حیات جاوید کے حوالے سے بہت سراہا وہاں کچھ ناقدین نے حالی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جن میں علامہ شبلی نعمانی سرِ فہرست ہیں ۔ مولانا شبلی نے ’’ حیات جاوید ‘‘ کو ’’کتاب المناقب ‘‘ قرار دیا ۔ اس حوالے سے اگر انصاف کیا جائے تو بہت کچھ کیا دھرا خود حالی کا بھی ہے ، ایک طرف تو وہ ’’حیات ِ جاوید ‘‘ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ ’’نکتہ چینی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے‘‘۔(۱۲)
تو دوسری جانب خود ہی اپنے اس دعوے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں مزید برآں لکھتے ہیں ’’ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ کسی شخص کی بائیو گرافی کریٹیکل طریقے سے لکھی جائے‘‘۔(۱۳)
حیات جاوید کی خوبیوں اور خامیوں کے باب میں ڈاکٹر رفیع الدین رقمطراز ہیں ۔
’’بلاشبہ ’’ حیاتِ جاوید ‘‘ میں کمیاں اور خامیاں موجود ہیں مگر حالی نے سوانح عمری کے باب میں جو کچھ کیا وہ قابلِ ستائش اور بہت سے مابعد سوانح نگاروں کے لیے لائقِ رشک ہے جو کچھ وہ نہیں کر سکے اس کے لیے انہیں معذور سمجھنا چاہیئے‘‘۔۔(۱۴)
حالی چونکہ ایک نہایت شریف اور بامروّت انسان تھے لہٰذا ان کے لیے ان لوگوں کی خامیا ں اور کجیاں کھل کر پیش کرنا ممکن نہ تھا جن سے وہ انتہائی محبت اور عقیدت رکھتے تھے ۔
بحیثیت مجموعی اگر دیکھا جائے تو حالی نے سوانح نگاری کی صنف کو کافی تقویت بخشی ۔وہ اردو ادب میں پہلے سوانح نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ ان سے پہلے اس فن کی جانب کسی نے خاص توجہ نہیں دی۔حالی نے کل تین سوانح عمریاں لکھی اور ان تینوں سوانح عمریوں میں انہوں نے سادہ ، سہل اور سلیس زبا ن کا استعمال کیا لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ سادگی کے باوجود انکی زبان عامیانہ پن سے پاک ہے۔
المامون:
المامون علامہ شبلی نعمانی کی پہلی سوانحی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب ۱۸۸۷ء ۱۸۸۹ء میں مکمل ہوئی ۔
Saturday, 15 June 2019
﷽
یونانی ادب
ملک اور سر زمین اپنے معدنی وسائل ، جہازوں کی تعداد، فوجی استحکام اور اجناس کے زخائر سے نہیں پہچانی جاتی۔ نامورشخصیتیں ملک اور سرزمین کی پہچان بنتی ہیں۔ادب، شاعری، فلسفہ،اور علم انہیں ناقابل فراموش اور زندہ جاوید بنا تا ہے۔۔۔۔(۱)اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو دنیا مین سب سے زیادہ مالامال سر زمین یونان ہے جس نے سقراط،افلاطون ،اور ارسطو جیسے فلسفی ،ہومرجیسےعظیم شاعر ،اسکائیلس اوریوری پیڈیز جیسے المیہ نگاروں کے ذریعےسے اپنے نا م کو دوام بخشا ہے ۔یونانی ادب کےمطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یونانی ادبیات کا ایک بڑا حصَہ ہم تک نہیں پہنچ پایا ، انسائیکلو پیڈیا براٹینکا میں اس بات کوکچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے؛
The literature of ancient Greece only a relatively small proportion survives….(۲)
تاہم مقدار میں کم ہونے کے باوجود یونانی ادب کو دنیا ئے ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔یونانی ادب پر بات کرنے سے پہلے یہ بات ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے جس نے اپنی آغوش میں اس ادب کو جگہ دی۔
قدیم یونان
قدیم یونان کی تاریخ کے بارے میں کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی کیونکہ اس حوالے سے ہماری معلو مات نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم روایات سے پتہ چلتا ہےکہ ۳۵سو قبل مسیح میں یونان کے شمال میں موجود ایک وادی تھسلی میں کچھ گلہ بانوں کی بستیاں آباد تھیں۔قدیم موَرخ یوسی بیس کے مطابق یونان کا قدیم شہر سی سیون حضرت عیسٰی علیہ سلام سے دو ہزار سال پہلے قائم ہوا تھا ۔یونان کی قدیم ترین آبادی عیسٰی علیہ سلام کی آمد سے دو ہزار سال پہلےیہاں موجود تھی یہ لوگ کالی رنگت کے تھے اور کانسی سے دھار والے اوزار کامیابی سے بنا تے تھے ۔ان کا مسکن حصارلک کی بستی تھی جو ٹرائے کے نام سے مشہور ہے ۔مرتضیٰ احمد خان کے مطابق
"حصارلک کی بستی (۱۹۰۰ق م) کے قریب ایک بدوی قوم کی یلغار کا شکار ہوکر تباہ ہوگئی"۔۔۔(۳)
مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حصارلک کی بستی یعنی ٹرائے ایک نہیں کئی مرتبہ تباہ ہوا ، اس شہر کی تباہی کے بارے میں باری علیگ لکھتے ہیں
"ٹرائے تین مرتبہ آباد ہو کر تباہ ہوا اس طرح ٹرائے نے آخری مرتبہ تباہ ہونے سے پہلے پتھر ، کانسی اور لوہے کے زمانوں میں بتدریج سفر کیا"۔۔۔۔(۴)
اس دور میں جزیرہ کریٹ کا تمدن باقی ملکوں سے زیادہ ترقی یافتہ تھا ۔یہاں کے لوگ جہاز رانی میں ماہر تھے اور بحری تجارت بھی کرتے تھے ۔ ان لوگوں نے یونان کی سر زمین پر ڈیلفی کے مقام پر ایک معبد بھی تعمیر کروایا جہاں سانپو ں کی دیوی کی پوجا کی جاتی تھی ۔اسی زمانے میں ایک اور قوم (آکائیائی ) کی آمد کے آثار ملتے ہیں یہ لوگ گوری رنگت والے تھے ۔ پندرہ سے سولہویں صدی تک یہ لوگ اپنے عروج پر تھے ،لیکن جس طرح پلاسگی قوم کو (جو کہ ٹرائےکے مکین تھے)کو ۱۹۰۰ق م میں بدوی قوم کی یلغار نے تباہ کیا بلکل اسی طرح آکائیائی تہذیب کو ڈوریائی حملوں نے ہلا کر رکھ دیا ۔ بقول ڈاکٹر وہاب اشرفی؛
"ڈوریائی قبیلوں کے پےدر پے حملوں نے آکائیائی تہذیب کو زبردست نقصان پہنچایا حملہ آوروں نے رفتہ رفتہ تھسیائی کو پھر پیلو پونسیس کو اور بعد میں
ماتحت جزیروں کو فتح کر کے آکائیائی تہذیب و تمدَن کے مرکز کو تباہ و برباد کر دیا"۔۔۔(۵)
روایات کے مطابق انہی ڈوریائی قبیلوں نےاسپارٹا کی حکومت قائم کی اور ایک مضبوط عسکری نظام کے تحت شخصی حکومت کی داغ بیل ڈالی ۔اس دور میں اسپارٹا کی عسکری قوت اپنے عروج پر تھی ان کی عسکری قوت پر توجہ کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ،باری علیگ لکھتے ہیں ؛
"جہاں یونان کی دوسری شہری ریاستوں نے شاعر، فلسفی ، ادیب ، اور سنگ تراش پیدا کیے وہاں اسپارٹا صرف سپاہی پیدا کر سکا"۔۔(۶)
یونان کی تاریخ میں انقلاب اس وقت آ یا جب شہنشاہ ایران نے سرزمین یونان پر حملہ کیا۔یہ حملہ اہل یونان کےلیے اس حوالے سے خوش آئند ثابت ہوا کہ اہل یونان نے متحد ہو کر درا یوش کا سامنہ کیا اور اپنے حوصلے اور ہمت سے درا یوش کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔ لیکن بد قسمتی سے یہ اتحاد وقتی ثابت ہوا اور چوتھی صدی قبل مسیح میں یونان پھر سے بدامنی اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا ۔ اس ضمن میں باری علیگ لکھتے ہیں :
"یونان کی تاریخ مختلف ریاستوں کی رقابتوں کی تاریخ ہے"۔۔۔(۷)
قدیم یونانیوں کی خا نہ جنگی کا اور انکے باہمی اتحاد کا اندازہ اوپر کی سطر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھا کر مقدونیہ کے بادشاہ فلپ نے ان ریاستوں کو بزورِ شمشیر اپنا مطیع بنا لیا ، بعدازاں اس کے بیٹے سکندرِ اعظم نے تو تقریباً آدھی دنیا کو زیر و زبر کر ڈالا۔دوسری صدی قبلِ مسیح میں رومن یہاں آئے ، رومیوں کے بعد(۱۷۱۸ء) میں ترک اور عثمانی اس ملک میں وارد ہوئے، انکے قبضے سے یہ ملک ۱۸۱۹ءمیں نکل گیا اور وہاں ایک خود سر عیسائی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔
یونانی دیومالا
یونان کی تاریخ میں صنمیات اور اسطورہ کا بڑا زبردست عمل دخل ہے اور اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قدیم یونان کا تصور دیومالا کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔انکی تقریباً سبھی روایات کی تشریح کے لئے ہمیں انکے اسطورہ اور صنمیات کے مطالعہ کی ضرورت پڑتی ہے۔انکے تمام ترتصورات،تہذیب وتمدن، بنیادی عقائد ،روحانی جذبے ، رسوم ورواج اور عسکری نظام کے تمام پہلو انکے صنمیات میں سمٹے ہوئے ہیں ۔
نسل انسانی کے آغاز کے بارے میں قدیم یونانیوں کا عقیدہ درج ذیل ہے
"یونانیوں کی پرانی روایت یہ ہے کہ پرویتھیٹس دیوتا نے یونان
کے ایک ساحلی مقام نیوپٹس کی مٹی سے انسان بنائے تھے۔۔(۸)
انکے اسی دیومالائی مزاج نے سر زمینِ یونان میں متعدّد دیوی ،دیوتاوں کو وجود بخشا ہے انکے ہاں ہر کام کے اپنے مخصوص دیوتا ہیں جن کی تفصیل آگے آئے گی ۔ہر دیوتا کے اپنے کچھ اختیارات ہیں لہٰذا جب کسی کو کوئی حاجت پیش آتی تو حاجت مند مطلوبہ دیوتا سے روجوع کرتا ۔انکے دیوتاؤں کی فہرست کافی طویل ہے اس ضمن میں ڈاکٹر وہاب اشرافی رقمطراز ہیں ؛
"اگر انکے دیوی دیوتاؤں کی فہرست جائے تو ایک اچھی خاصی کتاب مر تب ہوسکتی ہے"(۹)
تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مذہبی حوالے سے اہلِ یونان بت پرست تھے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ انکے دیوی ،دیوتا عام انسانوں کی طرح خواہشات رکھتے تھے بعض مذکر خداوں کی بیویاں بھی تھی اور اس کے علاوہ اگر تنہا کوئی عورت بھیڑ ،بکریاں چراتے ہوئے مل جاتی توان پر بھی تصّرف کر بیٹھتے اور ان سے جو اولاد پیدا ہوتی وہ آدھے انسان آدھے دیوتا کہلاتے ۔ہومر کی تخلیقات میں بھی اس حوالے سے شواہد ملتے ہیں ۔ "اوڈیسی میں دیوتاؤں کے متعلق متوازن تصور دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ان کی خو بو انسانوں سے ملتی جلتی ہے جس طرح انسان معمولی معمولی باتوں پر ناراض ہوتے ہیں ۔وہ بھی ایسا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔کسی بھی دیوتا کے کسی بھی عمل سے اس بات کا اظہار نہیں ہوتا کہ اس کے لئے اس کے سامنے جواز کے طور پر کوئی قاعدہ یا قانون بھی ہے "(۱۰)
قدیم یونان کے چند دیوتاؤں کی فہرست درج ذیل ہے
زیئس:اسے رب الارباب سمجھا جاتا تھا ۔
ڈیمیٹر:زمین کی دیوی تھی۔
ہیڈس: تحت الثریٰ کا حکمراں تھا۔
ہیرا: زیئس کی بیوی تھی اور شادی کی دیوی سمجھی جاتی تھی۔
اپولو:زیئس کا بیٹا تھا اور روشنی کا دیوتا تھا ۔
اتھینا:زیئس کی بیٹی اور ذہانت کی دیوی تھی ۔
ڈایونیسس:شراب کا دیوتا تھا ۔
ایریس:ذہانت کا دیوتا تھا۔
فیبس: سورج کا دیوتا تھا۔(۱۱)
ادب
یو نانی ادب کا شمار دنیا کے قدیم ترین ادبوں میں ہوتا ہے۔یو نانی ادب ہمیشہ سے اپنی قدامت اورعظمت کی بناء پرادب کے قاری کی آنکھوں کی زینت رہاہے ۔ یونانی ادب چونکہ ایک ایسے سماج کی گود میں پلا بڑھا جہاں دیوی ،دیوتاؤں کی پرستش ہوتی تھی ،لہٰذا ان کا ادب بھی نہایت بری طرح اسی اسطورہ کے جال میں گرفتار ہے۔
انکے متعدد گیتوں میں صرف انکے دیوی دیوتاؤں کے ہی گن گائے گئے ہیں اور بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے کے جیسے ادب کا مقصد انکی مذہبی تعلیمات کا پرچار ہی ہے۔ "پورے کلاسیکی عہد میں یونانی اساطیری کہانیوں نے اپنی غیر معمولی تازگی برقرار رکھی ،اور عقل ،جذبات اور تصورات کو یکساں طور پر متاثر کیا"۔۔۔۔۔۔(۱۲)ادب میں موجودان اساطیری کہانیوں نے اس سماج پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جنہیں آج بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔
اگر ابتدائی ادبی نمونوں کی بات کی جائے تو ،"اس باب میں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ یونان کا قدیم ترین ادبی نمونہ کیا ہے۔مورخین یا ماہرین لسانیات نے اس ضمن میں کچھ خاطر خواہ روشنی نہیں ڈالی بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ بالکل ابتدائی نمونے اب تک ناپید ہیں اور ابتدائی لٹریچر کے نام سے جو کچھ ہمارے سامنے ہے وہ ہومر کی نظمیں ہیں "۔۔۔(۱۳)درج ذیل اقتباس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدیم یونان کے تما م ادبی مباحث کا آغاز ہومر کی تخلیقات سے ہوتا ہے۔
ارتقائی اعتبار سے تو یونانی ادبیات کی تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔انسائیکلوپیڈیا براٹینکا کے مطابق ادوار کی تقسیم کچھ یو ں ہے۔
The history of ancient Greek literature may be divided into three periods: Archaic (to the end of the 6th century BC); Classical (5th and 4th century BC); and Hellenistic and Greco – Roman (3rd century BC and onward)…..(۱۴)
ہومر
ہومر کو دنیا کے پہلے شاعر ہونے کا اعزاز حا صل ہے ۔ ہومر کون تھا اس کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہیں ، یہاں تک کہ قدیم یونانی بھی اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں ۔محققین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کے ہومر آٹھویں صدی قبل مسیح میں ہو گزرا ہے ۔ البتہ کچھ محققین ہومر کا عہد نویں سے بارہویں صدی قبل مسیح بتاتے ہیں ۔جیسا کے ہومر کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف بالکل اسی طرح اس کے مقام پیدائش کے بارے میں بھی کئی آراء پائی جاتی ہیں ۔"بہر حال ہومر کی جائے پیدائش کے بارے میں کوئی بات تیقن کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی لیکن یونانی ادب کے محققین کا قیاس یہ ہے کہ اس کی پیدائش یونان کے مغربی ساحل آیونیا کے کسی علاقے میں ہوئی تھی۔(۱۵)(ASIAMINOR)
ہومر کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ وہ اندھا تھا یا عمر کے کسی حصے میں اس نے اپنی بینائی کھو دی تھی ۔لیکن ہومر کے اندھا ہونے کے حوالے سے جو بات ہمیں شک میں ڈالتی ہے وہ ہومر کا مشاہدہ ہے۔وہ انتہائی باریکی سے ہمیں جنگ کے میدانوں سے روشناس کراتا ہے اس دوران وہ جن نادر تشبیہات سے کا م لیتا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان کا خالق کیسے اندھا ہوسکتا ہے ۔ اس ضمن میں احمد عقیل روبی رقمطراز ہیں ؛
ان دونوں کتابوں ( یعنی ایلیڈ اور اوڈیسی ) میں سب سے اہم چیز ہومر کا قیامت خیز مشاہدہ ہے
وہ چیزوں کو اتنا قریب سے دیکھتا ہے اور پھر اپنے بیانیہ میں اتنی مہارت سے بیان کرتا ہے کہ
پڑھنے والے کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے ،بعض نقادوں کو یہ شک ہے کہ کیا ہومر واقعی اندھا تھا۔۔(۱۶)
ہومر کے اندھا ہونے کے حوالے سے ایک روایت ہے جو کافی حد تک مستند بھی ہے کیونکہ وہ خود ہومر کی زبانی ہے ۔ہومر اپالو کے مندر کی دیکھ بھال کرنے والی لڑکیوں سے کہتا ہے :
"جب کوئی شخص تمہارےپاس آئے اور تم سے پوچھے کہ اے لڑکیوں !اپالو کے اس مندر میں آنے والوں میں وہ کون
ساشاعر کون ساگوّیا ہے جسے تم سب سے زیادہ پسند کرتی ہو ؟تو تم سب یک زبان ہوکر کہنا ۔وہ نابینا شاعر ، جو (کوئس)کی
پہاڑیوں میں رہتا ہے جس کےلکھے گیت اوراشعارہمیشہ اچھے سمجھے جائیں گے۔۔(۱۷)
اوپر کے اقتباس یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ہومر واقعی اندھا تھا،لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا وہ پیدائشی طور پر اندھا تھا یا بعد میں اسکی بینائی چلی گئی ۔ اس بارے میں مرزا حامد بیگ کی رائے یہ ہے کہ وہ ایک سیاح کے ہمراہ سفر کےدوران اندھا ہوا ،آپ لکھتے ہیں؛
مینس کوہومرنےپہلی ہی ملاقات میں اتنا متاثر کیا کہ وہ ہومرکوسفرپراپنے
ہمراہ لے جانے پر بضد ہوا۔مینس نے ہومر کو سفر کے فوا ئدبتائے
اوراسکی شاعرانہ صلاحیتوں کے لیے سفر کوضروری قرار دیا ۔یوں ہومر
اس مالدار سیاح کے ساتھ نگری نگری گھوما۔ہومر کی نظر شروع
سے کمزور تھی اس سفر کے دوران اسکی بینائی بہت متاثر ہوئی اور
اتھیکا نامی شہر تک آتے آتے ہومر بینائی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔۔(۱۸)
ہومر کے بارے میں اتنی مبہم باتوں کے باجود اسکی عظمت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔نہ صرف اس وقت بلکہ آج بھی ہومر کا شمار دنیا کے عظیم ترین شعراء میں ہوتا ہے۔اسکی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ افلاطون جیسا شخص بھی ا س کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا ؛
سب سے اچھا شاعر اور تمام شاعروں میں سب سے عظیم روحانی شاعر اور تمام ڈرامہ نگاروں میں سب سے پہلا شاعر اورتمام امور میں سب سے عقلمند۔۔۔(۱۹)
یوں تو تاریخ میں ہومر کی عظمت کے بیشتر حوالے موجود ہیں لیکن سب کو یہاں جمع کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ ہر دور میں لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے وقتا فوقتا ہومر کو عقیدت کے نذرانے پیش کئے ہیں یہ بات شاید ہی کسی کے علم میں نہ ہوورنہ تاریخ گواہ ہے کہ "ہومر کی وجہ شہرت اس کی دو طویل ایپکس ہیں جن کی وجہ سے اسے ہر عہد کا بڑا مصنف اور لکھاری مانا جاتا ہے۔اگرچہ وہ یونانی بہادروں کی جرا ٔت، شجاعت،بہادری اورانسان دوستی کی مدح سرائی کرتا ہے۔یونانی ثقافت اور طویل طرز زندگی کے نقشے کھینچتا ہے لیکن یہ سب کچھ اس اسلوب میں بیان کرتا ہے کہ قدیم اور جدید لکھنے والے سر جھکا کر نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں۔ہومر یونان ہے اور یونان ہومر ہے۔۔۔(۲۰)
دنیائےعالم پر ہومر کا اثر
ہومر نہ صرف اپنے عہد کا بلکہ ہر عہد کا عظیم شاعر ہے اور رہے گا۔ ہر دور میں ادیبوں کی بڑی تعداد ہومر کی تقلید کرتی آئی ہے۔"اطالوی زبان کے عظیم شاعر ہوریس نے اپنے دن رات ہومر کی کتابوں کے ساتھ بسر کئے افلاطون اور سقراط نے اسے داد دی۔ارسطو نے بوطیقا کا تانا بانا ہومر کو سامنے رکھ کر بنا۔ارسطو کا شاگرد سکندر اعظم ایلیڈ کی ایک کاپی ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا تاکہ میدان جنگ میں اپنی فوجوں کو ترتیب وار اس طرح کھڑا کر سکے جس طرح ہومر نے کتاب میں کھڑا کیا ہے۔ہومر کو انگریزی میں سب سے پہلے چمپئن ایڈیشن میں ایلیڈ کا ترجمہ کیا گیا۔جسے پڑھ کر انگریزی کے مشہور شاعر کیٹس نے اپنا مشہور سانٹ لکھا اس کے بعد دوسراا ہم ترجمہ الیگزنڈر پوپ کا ترجمہ ہے پھر اس کے بعد رچمنڈلیٹی مور،سرولیم مورس اور سمیوئیل بٹلر کے ترجمہ آئے اور ہومر پوری دنیا میں پڑھا جانے لگا اور انگریزی سے دوسری زبانوں میں ترجمے ہونے لگے۔محمد سلیم الرحمٰن نے اوڈیسی کا جہاں گرد کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا اور عالمی ادب ہومر کے اثر سے چھٹکارا نہ پا سکا"۔۔۔(۲۱)
ہومر کا فن
ہومر کے فن کے حوالے سے اگر بات کی جا ئےتو ہمارے سامنے اس کے دو شاہکار رزمیے ہیں جو اسکی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں دیگر تمام امور کی طرح یہاں بھی ناقدین میں اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض احباب ان تخلیقات کو ہومر سے منسوب کرتے ہیں تاہم کچھ اس بات سے انکاری ہیں البتہ جمہور کا فیصلہ یہی ہے کے یہ دونوں ہومر ہی کی تخلیقات ہیں۔ ان رزمیوں کے ذریعےہومر نے دنیا کو اپنی شاعرانہ صلاحیتوں ، صحت مند ذہن اور زبان پر قدرت جیسی خصوصیات سے نہ صرف اس دور بلکہ آنے والے ادوار میں بھی ادب سے شغف رکھنے والے اذہان کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ہومر کی ان رزمیہ نظموں سے ہمیں اس دور کے لوگوں کا رہن سہن ، رسوم ورواج اورمذہبی عقا ئد کا پتہ چلتا ہے۔کیونکہ یہ رزمیہ نظمیں ہیں اس لیے ہومر ہمیں میدان جنگ میں ہی گھومتا پھرتا نظر آتا ہےسب سے اہم شے اس دوران ہومر کا فنکارانہ بیان ہے وہ میدان جنگ کے مناظر کو اس خوبی کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ ہم خود کو میدان کارزار میں کھڑا محسوس کرتے ہیں اور یوں وہ ہمیں ان مشاہدات کے انتہائی قریب تر لے جاتاہے جو اس کے اپنے ہیں۔ ان نظموں میں وہ ہمیں نہ صرف میدان جنگ کے حالات سے روبرو کراتا ہے بلکہ ان میں ہمیں اس دور کے سماج کی تصاویر بھی دکھائی دیتی ہیں۔اس ضمن میں بار ی علیگ رقمطراز ہیں؛
ہومر کی رزمیہ نظموں کا موضوع تاریخی اعتبار سے ٹھیک ہو یا غلط ان کے ذریعے
یونانیوں کی مجلسی اور سیاسی زندگی کا پتہ چلتاہے۔ہومر کی نظموں میں سماج کا ابتدائی
نقشہ دکھائی دیتا ہے ایک ایسا سماج جو صرف اور صرف جنگ کے لیے ترتیب
دیا گیا ہو۔یہ سماج بناوٹ کے لحاظ سے پدرسری اور قبائلی تھا۔(۲۲)
اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قدیم یونان کس طبقاتی نظام میں جکڑا ہوا تھا ۔"زمانہ شجاعت کے یونانی گاؤں کی آبادی چار طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ زمین پر امیر قابض تھے دوسرا طبقہ مالک کاشتکاروں کا تھا جن کے پاس تھوڑی بہت زمین ہوتی تھی ،تیسرا طبقہ ان آزاد مزدوروں کا تھا جو اجرت پر کام کرتے تھے،چوتھا طبقہ غلاموں کا تھا "۔۔۔۔۔۔۔(۲۳)
غرض اگر ہومر کی شاعری کو عہد حاضر کی کسی بھی کسوٹی پر پرکھا جائے تو وہ کسی نہ کسی حد تک کھری ثابت ہوتی ہے۔
ہیسوڈ
اگر ہومر شاعری کی دنیا کاآدم ہے تو ہیسوڈ کو آدم ثانی کہنا بے جا نہ ہوگا۔ ہومر کے بعد یونانی ادبیات کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اسے ہیسوڈ جیسا شاعر ملا۔عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ عظیم لوگ تقلید سے متنفر ہوتے ہیں بقول اقبال؛
؎تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے؟؟؟
اگر یہ درست ہے تو پھر ہیسوڈ بھی ایک عظیم شاعر ہے کیونکہ اس نے ہومر جیسے شاعر کی تقلید سےمنہ موڑ کر اپنی راہ نکالی۔ہومر اور ہیسوڈ کے موضوعات میں بڑا تضاد ہے ہومر کے موضوعات میدان کارزار سے متعلق ہیں جبکہ ہیسوڈ کے موضوعات عوامی نوعیت کے ہیں وہ دیہاتوں میں پھرتا نظر آتا ہے اور موسموں کا حال بیان کرتا ہے۔ہیسوڈ نے عمر بھر شادی نہیں کی۔ہیسوڈ کی تصانیف یہ ہیں ؛
۱۔ورکس اینڈ ڈیز ۔
۲۔تھیوگونی۔
۳۔کیٹلاگ آف ویمن۔
۴۔ای اوامی۔
۵۔شیلئر آف ہرکلس۔
سیفو
سیفو کا عہد ساتویں صدی قبل مسیح خیال کیا جاتا ہے۔اسطرح وہ الکائیس کی ہمعصر تھی۔بچپن میں ہی یتیم ہوگئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ وہ کسی نوجوان پر عاشق تھی جسکی وجہ سے اس کے کلام میں عاشقانہ رنگ پایا جاتا ہے۔" اس کی غزل سرائی ایسی پر تاثیر تھی کہ اہل یونان اس کے مفتون و شیدا تھے"۔(۲۴)سیفو سے نو کتابیں منسوب ہیں۔جن میں مرثیہ اور حمدیہ کلام شامل ہے۔
پندار یا پنڈار
پندار یونان کا قومی شاعر ہے۔۔(۲۵)پندار۵۲۲قبل مسیح میں پیدا ہوا ۔اس کا تعلق ایک اسپارٹن خاندان سے تھا۔اس کے کلام کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو گیا۔ اس نے اخلاقی شاعری کی۔
یونانی ڈرامہ
یونانی ڈرامہ کا آغاز شراب کے دیوتا کی تعریف میں کہے جانے والے گیتوں سے ہوا۔۔۔(۲۶)یونان ڈرامے کے باب میں بھی خوش قسمت ہے کہ اسے ابتدا ہی میں ایسے ڈرامہ نگار مل گئے جنہوں نے اس فن کو دوام بخشااس حوالے سے،اسکائی لس،سفوکلیزاوریوریپیڈیز کے نام اہم ہیں۔یاد رہے کہ یہ تینوں المیہ نگار ہیں۔طربیہ کی صنف میں اہم نام ارسطوفینز کا ہے۔یونانی ڈرامہ پر بات کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ المیہ پر سرسری بات کر لی جائے۔
المیہ
المیہ کی تعریف ارسطونے بوطیقامیں یوں کی ہے۔"المیہ نقل ہے ایک ایسے عمل کی جو سنجیدہ اور مکمل ہو۔جس کی زبان ایسے وسائل سے مزین ہو جو اس کے مختلف حصوں میں نمایاں کیے گئے ہوں۔ جس کا طریقہ اظہار بیانیہ ہونے کے بجائے ڈرامائی ہو۔اس کے واقعات خوف اور رحم کے جذبات ابھاریں۔اس طرح ان جذبات کی اصلاح کیتھارسس ہو جائے۔المیہ کی اصطلاح عمومی زندگی کے بطن سے پھوٹ کر ادب کی دنیا میں داخل ہوئی ہے۔زندگی بجنسہ بڑا المیہ ہے اور اس کے متعلقات میں المیاتی سانحے رونما ہوتے رہتے ہیں۔پر المیہ ایک نئی صورت حال کو جنم دیتا ہے"۔۔۔(۲۷)
انسائکلوپیڈیا براٹینکا کے مطابق المیہ کی تعریف کچھ یوں ہے؛
TRAGEDY: branch of Drama that treats in serious and dignified style the sorrowful or terrible events encountered or caused by a heroic individual.(28)
اسکائیلس
اسکائیلس ۵۲۵ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ قدیم یونانیوں کے مطابق اسے دیوتا ڈایونی سس نے ڈرامہ لکھنے کی طرف مائل کیا۔ اسکائیلس کو ڈرامے کا موجد مانا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر وہاب اشرفی رقم طراز ہیں؛
اسکائیلس ڈرامے کا موجد ہے۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے ڈرامے کی ہیت
اور شکل متعین کی، مکالمہ نگاری کو رواج دیا اور ڈرامے میں دوسرا کردار لایا۔
اس سے قبل ڈراما مونولاگ کی صورت میں ملتا ہے۔ یعنی ایک شخص کسی کہانی کو ایک جگہ کھڑا ہو کر سناتا تھا۔(۲۹)
درج ذیل اقتباس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ڈرامے کو صحیح سمت اسکائیلس نے عطا کی۔یوں تو ڈراما اسکائیلس سےپہلے بھی ملتا ہےلیکن اس کو ہم صحیح معنوں میں ڈراما نہیں کہہ سکتے۔ اس نے کل نوے ڈرامے تخلیق کیے جن میں سے سات ہم تک پہنچے ہیں۔ اس نے اپنا پہلا ڈراما ۲۵ سال کی عمر میں تخلیق کیا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی سلجھا ہوا اسلوب ہے۔ اس کی زبان تشبیہ اور استعارے سے آراستہ ہے۔اسکایئلس کے جو ڈرامے ہم تک مربوط شکل میں پہنچے ہیں وہ درج ذیل ہیں؛
1. Seven Against Thebes
2. Agamennon
3. Cheophoroe
4. Suppliant Women
5. Perisian
6. Prometheus Bound
سوفیکلیز
سوفیکلیز ۴۹۶ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ سونی لس سامان جنگ تیار کرنے والے ایک کارخانے کا مالک تھا۔ سوفیکلیز کو اسکائیلس کے بعد یونان کا سب سے بڑا ڈراما نگار مانا جاتا ہے۔ سوفیکلیز ایڈیپس ریکس کا خالق ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا ڈراما قرار دیا جاتا ہے۔ اس نے ۱۲۰ ڈرامے تصنیف کیے اور ڈرامے میں تیسرے کردار کا اضافہ کیا۔ سوفیکلیز کی انفرادیت اس کے مضبوط نسوانی کردار ہیں۔ ایڈیپس ریکس کے بعد اس کا سب سے مشہور ڈراما الیکٹرا ہے۔
یوری پیڈیز
یوری پیڈیز ۴۸۰ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے تھا۔ یہ المیہ نگاری کا آخری بڑا ڈرامہ نگار تھا۔ اس نے عورتوں کی فطری کمزوریوں کو اپنے ڈراموں میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ اس کے ڈراموں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر اپنے عہد کے گوناگوں رجحانات و میلانات کو لیے ہوئے ہیں۔اس نے کل ۹۵ ڈرامے لکھے جن میں سے ۱۹ آج دستیاب ہیں۔
1. ALCESTIS
2. MEDEA
3. HERACLEIDAE
4. HIPPOLYTUS
5. ANDROMACHE
6. HECUBA
7. THE SUPPLICANTS
8. ELECTRA
9. HERACLES
10. THE TROJAN WOMEN
11. IPHEGENIA IN TRURIS
12. ION
13. HELEN … (30)
جن ڈراموں کے نام اوپر دیے گئے ہیں وہ مکمل ڈرامے ہیں اس کے علاوہ جو ڈرامے ہیں وہ منتشر اشکال میں ملتے ہیں۔
طربیہ
کامیڈی یا طربیہ کا آغازبقول ارسطو جنسی اور فحش گیتوں سے ہوا۔ کامیڈی کا لفظ''کوم'' سے بنا ہے۔ جس کا مطلب ہے گاؤں۔۔۔۔(۳۱)
یونان کا سب سے مشہور طربیہ نگار ارسطو فینز ہے۔
ارسطوفینز
ارسطوفینز۴۴۸ قبل مسیح میں ایتھنز میں پیدا ہوا اور ۳۸۵کے دوران فوت ہوا۔ اس کے طربیہ ڈراموں میں فحش عناصر پائے جاتے ہیں۔فحاشی اور جنسی مناظر کے ساتھ ساتھ اس کے ہاں اپنے عہد کی سیاست، روزمرہ زندگی اور عصری ادب پر بھی ایک بھرپور طنز پائی جاتی ہے۔(۳۲)
اس نے اپنا پہلا ڈراما ۴۲۷ قبل مسیح میں لکھا۔ اس نے کل ۵۴ ڈرامے لکھے۔ اس کے اسلوب اور موضوعات میں اتنی جان ہے کہ لوگ آج بھی اسے شوق سے پڑھتے ہیں۔
ایسوپ
ایسوپ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ کہانیاں جانوروں، پرندوں اور درندوں سے متعلق ہیں۔ یہ سبق آموز کہانیاں ہیں جنہیں ''فیبل'' کہا جاتا ہے۔
حوالہ جات
۱۔احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر ۱۵
2.http://www.bratinica.com/art/Greek-literature.
14/10/2018,10:30AM
۳۔وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۸۴
۴۔باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۱
۵۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۸۷
۶۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۹
۷۔ایضاً صفحہ نمبر ۱۲۰
۸۔ بحوالہ مرتضی احمد خان، وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر ۸۹
۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۰
۱۰۔بادشاہ منیر بخاری ،ڈاکٹر،ولی محمد ،ڈاکٹر،۲۰۱۳ء،اوڈیسی میں اساطیری عناصر کا تحقیقی و توضیحی تجزیہ،:مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۹،صفحہ نمبر ۲۰۷
۱۱۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۱
۱۲۔حبیب حق ،کلاسیکی یونان : تہذیب،فلسفہ ،فنون لطیفہ،قومی قونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۵۰
۱۳۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۲
14. http://www.bratinica.com/art/Greek-literature.
14/10/2018,10:19 am
۱۵۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۵
۱۶۔احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۲۳
۱۷۔ایضاً صفحہ نمبر ۱۶
18.http://rekhtaurdupoetry.blogspot.com/2014/06/blog-post.html?m=1
14/10/2018,11:20 am
۱۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۶
۲۰۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۱۶
۲۱۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۱۷
۲۲۔۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۳
۲۳۔ایضاً صفحہ نمبر ۱۲۴
۲۴۔ بحوالہ مرتضی احمد خان، وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر ۱۲۶
۲۵۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۴۷
۲۶۔ایضاً
۲۷۔انور جمال،پروفیسر،ادبی اصطلاحات ،نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد،اشاعت سوم ،۲۰۱۶ء، صفحہ نمبر ۴۴
28.http://www.bratanica.com/art/tragedy-literature.
14/10/2018,11:03 am
۲۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۱۵۳
۳۰۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۴۷،۴۸
۳۱۔ایضاًصفحہ نمبر۵۸،۵۷
۳۲۔ایضاً صفحہ نمبر ۵۷
عقیل احمد شاہ ، بی ایس میقات پنجم،شعبہ اردو جامعہ پشاور
یونانی ادب
ملک اور سر زمین اپنے معدنی وسائل ، جہازوں کی تعداد، فوجی استحکام اور اجناس کے زخائر سے نہیں پہچانی جاتی۔ نامورشخصیتیں ملک اور سرزمین کی پہچان بنتی ہیں۔ادب، شاعری، فلسفہ،اور علم انہیں ناقابل فراموش اور زندہ جاوید بنا تا ہے۔۔۔۔(۱)اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو دنیا مین سب سے زیادہ مالامال سر زمین یونان ہے جس نے سقراط،افلاطون ،اور ارسطو جیسے فلسفی ،ہومرجیسےعظیم شاعر ،اسکائیلس اوریوری پیڈیز جیسے المیہ نگاروں کے ذریعےسے اپنے نا م کو دوام بخشا ہے ۔یونانی ادب کےمطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یونانی ادبیات کا ایک بڑا حصَہ ہم تک نہیں پہنچ پایا ، انسائیکلو پیڈیا براٹینکا میں اس بات کوکچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے؛
The literature of ancient Greece only a relatively small proportion survives….(۲)
تاہم مقدار میں کم ہونے کے باوجود یونانی ادب کو دنیا ئے ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔یونانی ادب پر بات کرنے سے پہلے یہ بات ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے جس نے اپنی آغوش میں اس ادب کو جگہ دی۔
قدیم یونان
قدیم یونان کی تاریخ کے بارے میں کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی کیونکہ اس حوالے سے ہماری معلو مات نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم روایات سے پتہ چلتا ہےکہ ۳۵سو قبل مسیح میں یونان کے شمال میں موجود ایک وادی تھسلی میں کچھ گلہ بانوں کی بستیاں آباد تھیں۔قدیم موَرخ یوسی بیس کے مطابق یونان کا قدیم شہر سی سیون حضرت عیسٰی علیہ سلام سے دو ہزار سال پہلے قائم ہوا تھا ۔یونان کی قدیم ترین آبادی عیسٰی علیہ سلام کی آمد سے دو ہزار سال پہلےیہاں موجود تھی یہ لوگ کالی رنگت کے تھے اور کانسی سے دھار والے اوزار کامیابی سے بنا تے تھے ۔ان کا مسکن حصارلک کی بستی تھی جو ٹرائے کے نام سے مشہور ہے ۔مرتضیٰ احمد خان کے مطابق
"حصارلک کی بستی (۱۹۰۰ق م) کے قریب ایک بدوی قوم کی یلغار کا شکار ہوکر تباہ ہوگئی"۔۔۔(۳)
مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حصارلک کی بستی یعنی ٹرائے ایک نہیں کئی مرتبہ تباہ ہوا ، اس شہر کی تباہی کے بارے میں باری علیگ لکھتے ہیں
"ٹرائے تین مرتبہ آباد ہو کر تباہ ہوا اس طرح ٹرائے نے آخری مرتبہ تباہ ہونے سے پہلے پتھر ، کانسی اور لوہے کے زمانوں میں بتدریج سفر کیا"۔۔۔۔(۴)
اس دور میں جزیرہ کریٹ کا تمدن باقی ملکوں سے زیادہ ترقی یافتہ تھا ۔یہاں کے لوگ جہاز رانی میں ماہر تھے اور بحری تجارت بھی کرتے تھے ۔ ان لوگوں نے یونان کی سر زمین پر ڈیلفی کے مقام پر ایک معبد بھی تعمیر کروایا جہاں سانپو ں کی دیوی کی پوجا کی جاتی تھی ۔اسی زمانے میں ایک اور قوم (آکائیائی ) کی آمد کے آثار ملتے ہیں یہ لوگ گوری رنگت والے تھے ۔ پندرہ سے سولہویں صدی تک یہ لوگ اپنے عروج پر تھے ،لیکن جس طرح پلاسگی قوم کو (جو کہ ٹرائےکے مکین تھے)کو ۱۹۰۰ق م میں بدوی قوم کی یلغار نے تباہ کیا بلکل اسی طرح آکائیائی تہذیب کو ڈوریائی حملوں نے ہلا کر رکھ دیا ۔ بقول ڈاکٹر وہاب اشرفی؛
"ڈوریائی قبیلوں کے پےدر پے حملوں نے آکائیائی تہذیب کو زبردست نقصان پہنچایا حملہ آوروں نے رفتہ رفتہ تھسیائی کو پھر پیلو پونسیس کو اور بعد میں
ماتحت جزیروں کو فتح کر کے آکائیائی تہذیب و تمدَن کے مرکز کو تباہ و برباد کر دیا"۔۔۔(۵)
روایات کے مطابق انہی ڈوریائی قبیلوں نےاسپارٹا کی حکومت قائم کی اور ایک مضبوط عسکری نظام کے تحت شخصی حکومت کی داغ بیل ڈالی ۔اس دور میں اسپارٹا کی عسکری قوت اپنے عروج پر تھی ان کی عسکری قوت پر توجہ کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ،باری علیگ لکھتے ہیں ؛
"جہاں یونان کی دوسری شہری ریاستوں نے شاعر، فلسفی ، ادیب ، اور سنگ تراش پیدا کیے وہاں اسپارٹا صرف سپاہی پیدا کر سکا"۔۔(۶)
یونان کی تاریخ میں انقلاب اس وقت آ یا جب شہنشاہ ایران نے سرزمین یونان پر حملہ کیا۔یہ حملہ اہل یونان کےلیے اس حوالے سے خوش آئند ثابت ہوا کہ اہل یونان نے متحد ہو کر درا یوش کا سامنہ کیا اور اپنے حوصلے اور ہمت سے درا یوش کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔ لیکن بد قسمتی سے یہ اتحاد وقتی ثابت ہوا اور چوتھی صدی قبل مسیح میں یونان پھر سے بدامنی اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا ۔ اس ضمن میں باری علیگ لکھتے ہیں :
"یونان کی تاریخ مختلف ریاستوں کی رقابتوں کی تاریخ ہے"۔۔۔(۷)
قدیم یونانیوں کی خا نہ جنگی کا اور انکے باہمی اتحاد کا اندازہ اوپر کی سطر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھا کر مقدونیہ کے بادشاہ فلپ نے ان ریاستوں کو بزورِ شمشیر اپنا مطیع بنا لیا ، بعدازاں اس کے بیٹے سکندرِ اعظم نے تو تقریباً آدھی دنیا کو زیر و زبر کر ڈالا۔دوسری صدی قبلِ مسیح میں رومن یہاں آئے ، رومیوں کے بعد(۱۷۱۸ء) میں ترک اور عثمانی اس ملک میں وارد ہوئے، انکے قبضے سے یہ ملک ۱۸۱۹ءمیں نکل گیا اور وہاں ایک خود سر عیسائی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔
یونانی دیومالا
یونان کی تاریخ میں صنمیات اور اسطورہ کا بڑا زبردست عمل دخل ہے اور اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قدیم یونان کا تصور دیومالا کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔انکی تقریباً سبھی روایات کی تشریح کے لئے ہمیں انکے اسطورہ اور صنمیات کے مطالعہ کی ضرورت پڑتی ہے۔انکے تمام ترتصورات،تہذیب وتمدن، بنیادی عقائد ،روحانی جذبے ، رسوم ورواج اور عسکری نظام کے تمام پہلو انکے صنمیات میں سمٹے ہوئے ہیں ۔
نسل انسانی کے آغاز کے بارے میں قدیم یونانیوں کا عقیدہ درج ذیل ہے
"یونانیوں کی پرانی روایت یہ ہے کہ پرویتھیٹس دیوتا نے یونان
کے ایک ساحلی مقام نیوپٹس کی مٹی سے انسان بنائے تھے۔۔(۸)
انکے اسی دیومالائی مزاج نے سر زمینِ یونان میں متعدّد دیوی ،دیوتاوں کو وجود بخشا ہے انکے ہاں ہر کام کے اپنے مخصوص دیوتا ہیں جن کی تفصیل آگے آئے گی ۔ہر دیوتا کے اپنے کچھ اختیارات ہیں لہٰذا جب کسی کو کوئی حاجت پیش آتی تو حاجت مند مطلوبہ دیوتا سے روجوع کرتا ۔انکے دیوتاؤں کی فہرست کافی طویل ہے اس ضمن میں ڈاکٹر وہاب اشرافی رقمطراز ہیں ؛
"اگر انکے دیوی دیوتاؤں کی فہرست جائے تو ایک اچھی خاصی کتاب مر تب ہوسکتی ہے"(۹)
تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مذہبی حوالے سے اہلِ یونان بت پرست تھے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ انکے دیوی ،دیوتا عام انسانوں کی طرح خواہشات رکھتے تھے بعض مذکر خداوں کی بیویاں بھی تھی اور اس کے علاوہ اگر تنہا کوئی عورت بھیڑ ،بکریاں چراتے ہوئے مل جاتی توان پر بھی تصّرف کر بیٹھتے اور ان سے جو اولاد پیدا ہوتی وہ آدھے انسان آدھے دیوتا کہلاتے ۔ہومر کی تخلیقات میں بھی اس حوالے سے شواہد ملتے ہیں ۔ "اوڈیسی میں دیوتاؤں کے متعلق متوازن تصور دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ان کی خو بو انسانوں سے ملتی جلتی ہے جس طرح انسان معمولی معمولی باتوں پر ناراض ہوتے ہیں ۔وہ بھی ایسا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔کسی بھی دیوتا کے کسی بھی عمل سے اس بات کا اظہار نہیں ہوتا کہ اس کے لئے اس کے سامنے جواز کے طور پر کوئی قاعدہ یا قانون بھی ہے "(۱۰)
قدیم یونان کے چند دیوتاؤں کی فہرست درج ذیل ہے
زیئس:اسے رب الارباب سمجھا جاتا تھا ۔
ڈیمیٹر:زمین کی دیوی تھی۔
ہیڈس: تحت الثریٰ کا حکمراں تھا۔
ہیرا: زیئس کی بیوی تھی اور شادی کی دیوی سمجھی جاتی تھی۔
اپولو:زیئس کا بیٹا تھا اور روشنی کا دیوتا تھا ۔
اتھینا:زیئس کی بیٹی اور ذہانت کی دیوی تھی ۔
ڈایونیسس:شراب کا دیوتا تھا ۔
ایریس:ذہانت کا دیوتا تھا۔
فیبس: سورج کا دیوتا تھا۔(۱۱)
ادب
یو نانی ادب کا شمار دنیا کے قدیم ترین ادبوں میں ہوتا ہے۔یو نانی ادب ہمیشہ سے اپنی قدامت اورعظمت کی بناء پرادب کے قاری کی آنکھوں کی زینت رہاہے ۔ یونانی ادب چونکہ ایک ایسے سماج کی گود میں پلا بڑھا جہاں دیوی ،دیوتاؤں کی پرستش ہوتی تھی ،لہٰذا ان کا ادب بھی نہایت بری طرح اسی اسطورہ کے جال میں گرفتار ہے۔
انکے متعدد گیتوں میں صرف انکے دیوی دیوتاؤں کے ہی گن گائے گئے ہیں اور بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے کے جیسے ادب کا مقصد انکی مذہبی تعلیمات کا پرچار ہی ہے۔ "پورے کلاسیکی عہد میں یونانی اساطیری کہانیوں نے اپنی غیر معمولی تازگی برقرار رکھی ،اور عقل ،جذبات اور تصورات کو یکساں طور پر متاثر کیا"۔۔۔۔۔۔(۱۲)ادب میں موجودان اساطیری کہانیوں نے اس سماج پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جنہیں آج بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔
اگر ابتدائی ادبی نمونوں کی بات کی جائے تو ،"اس باب میں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ یونان کا قدیم ترین ادبی نمونہ کیا ہے۔مورخین یا ماہرین لسانیات نے اس ضمن میں کچھ خاطر خواہ روشنی نہیں ڈالی بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ بالکل ابتدائی نمونے اب تک ناپید ہیں اور ابتدائی لٹریچر کے نام سے جو کچھ ہمارے سامنے ہے وہ ہومر کی نظمیں ہیں "۔۔۔(۱۳)درج ذیل اقتباس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدیم یونان کے تما م ادبی مباحث کا آغاز ہومر کی تخلیقات سے ہوتا ہے۔
ارتقائی اعتبار سے تو یونانی ادبیات کی تاریخ کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔انسائیکلوپیڈیا براٹینکا کے مطابق ادوار کی تقسیم کچھ یو ں ہے۔
The history of ancient Greek literature may be divided into three periods: Archaic (to the end of the 6th century BC); Classical (5th and 4th century BC); and Hellenistic and Greco – Roman (3rd century BC and onward)…..(۱۴)
ہومر
ہومر کو دنیا کے پہلے شاعر ہونے کا اعزاز حا صل ہے ۔ ہومر کون تھا اس کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہیں ، یہاں تک کہ قدیم یونانی بھی اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں ۔محققین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کے ہومر آٹھویں صدی قبل مسیح میں ہو گزرا ہے ۔ البتہ کچھ محققین ہومر کا عہد نویں سے بارہویں صدی قبل مسیح بتاتے ہیں ۔جیسا کے ہومر کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف بالکل اسی طرح اس کے مقام پیدائش کے بارے میں بھی کئی آراء پائی جاتی ہیں ۔"بہر حال ہومر کی جائے پیدائش کے بارے میں کوئی بات تیقن کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی لیکن یونانی ادب کے محققین کا قیاس یہ ہے کہ اس کی پیدائش یونان کے مغربی ساحل آیونیا کے کسی علاقے میں ہوئی تھی۔(۱۵)(ASIAMINOR)
ہومر کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ وہ اندھا تھا یا عمر کے کسی حصے میں اس نے اپنی بینائی کھو دی تھی ۔لیکن ہومر کے اندھا ہونے کے حوالے سے جو بات ہمیں شک میں ڈالتی ہے وہ ہومر کا مشاہدہ ہے۔وہ انتہائی باریکی سے ہمیں جنگ کے میدانوں سے روشناس کراتا ہے اس دوران وہ جن نادر تشبیہات سے کا م لیتا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان کا خالق کیسے اندھا ہوسکتا ہے ۔ اس ضمن میں احمد عقیل روبی رقمطراز ہیں ؛
ان دونوں کتابوں ( یعنی ایلیڈ اور اوڈیسی ) میں سب سے اہم چیز ہومر کا قیامت خیز مشاہدہ ہے
وہ چیزوں کو اتنا قریب سے دیکھتا ہے اور پھر اپنے بیانیہ میں اتنی مہارت سے بیان کرتا ہے کہ
پڑھنے والے کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے ،بعض نقادوں کو یہ شک ہے کہ کیا ہومر واقعی اندھا تھا۔۔(۱۶)
ہومر کے اندھا ہونے کے حوالے سے ایک روایت ہے جو کافی حد تک مستند بھی ہے کیونکہ وہ خود ہومر کی زبانی ہے ۔ہومر اپالو کے مندر کی دیکھ بھال کرنے والی لڑکیوں سے کہتا ہے :
"جب کوئی شخص تمہارےپاس آئے اور تم سے پوچھے کہ اے لڑکیوں !اپالو کے اس مندر میں آنے والوں میں وہ کون
ساشاعر کون ساگوّیا ہے جسے تم سب سے زیادہ پسند کرتی ہو ؟تو تم سب یک زبان ہوکر کہنا ۔وہ نابینا شاعر ، جو (کوئس)کی
پہاڑیوں میں رہتا ہے جس کےلکھے گیت اوراشعارہمیشہ اچھے سمجھے جائیں گے۔۔(۱۷)
اوپر کے اقتباس یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ہومر واقعی اندھا تھا،لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا وہ پیدائشی طور پر اندھا تھا یا بعد میں اسکی بینائی چلی گئی ۔ اس بارے میں مرزا حامد بیگ کی رائے یہ ہے کہ وہ ایک سیاح کے ہمراہ سفر کےدوران اندھا ہوا ،آپ لکھتے ہیں؛
مینس کوہومرنےپہلی ہی ملاقات میں اتنا متاثر کیا کہ وہ ہومرکوسفرپراپنے
ہمراہ لے جانے پر بضد ہوا۔مینس نے ہومر کو سفر کے فوا ئدبتائے
اوراسکی شاعرانہ صلاحیتوں کے لیے سفر کوضروری قرار دیا ۔یوں ہومر
اس مالدار سیاح کے ساتھ نگری نگری گھوما۔ہومر کی نظر شروع
سے کمزور تھی اس سفر کے دوران اسکی بینائی بہت متاثر ہوئی اور
اتھیکا نامی شہر تک آتے آتے ہومر بینائی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔۔(۱۸)
ہومر کے بارے میں اتنی مبہم باتوں کے باجود اسکی عظمت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔نہ صرف اس وقت بلکہ آج بھی ہومر کا شمار دنیا کے عظیم ترین شعراء میں ہوتا ہے۔اسکی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ افلاطون جیسا شخص بھی ا س کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا ؛
سب سے اچھا شاعر اور تمام شاعروں میں سب سے عظیم روحانی شاعر اور تمام ڈرامہ نگاروں میں سب سے پہلا شاعر اورتمام امور میں سب سے عقلمند۔۔۔(۱۹)
یوں تو تاریخ میں ہومر کی عظمت کے بیشتر حوالے موجود ہیں لیکن سب کو یہاں جمع کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ ہر دور میں لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے وقتا فوقتا ہومر کو عقیدت کے نذرانے پیش کئے ہیں یہ بات شاید ہی کسی کے علم میں نہ ہوورنہ تاریخ گواہ ہے کہ "ہومر کی وجہ شہرت اس کی دو طویل ایپکس ہیں جن کی وجہ سے اسے ہر عہد کا بڑا مصنف اور لکھاری مانا جاتا ہے۔اگرچہ وہ یونانی بہادروں کی جرا ٔت، شجاعت،بہادری اورانسان دوستی کی مدح سرائی کرتا ہے۔یونانی ثقافت اور طویل طرز زندگی کے نقشے کھینچتا ہے لیکن یہ سب کچھ اس اسلوب میں بیان کرتا ہے کہ قدیم اور جدید لکھنے والے سر جھکا کر نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں۔ہومر یونان ہے اور یونان ہومر ہے۔۔۔(۲۰)
دنیائےعالم پر ہومر کا اثر
ہومر نہ صرف اپنے عہد کا بلکہ ہر عہد کا عظیم شاعر ہے اور رہے گا۔ ہر دور میں ادیبوں کی بڑی تعداد ہومر کی تقلید کرتی آئی ہے۔"اطالوی زبان کے عظیم شاعر ہوریس نے اپنے دن رات ہومر کی کتابوں کے ساتھ بسر کئے افلاطون اور سقراط نے اسے داد دی۔ارسطو نے بوطیقا کا تانا بانا ہومر کو سامنے رکھ کر بنا۔ارسطو کا شاگرد سکندر اعظم ایلیڈ کی ایک کاپی ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا تاکہ میدان جنگ میں اپنی فوجوں کو ترتیب وار اس طرح کھڑا کر سکے جس طرح ہومر نے کتاب میں کھڑا کیا ہے۔ہومر کو انگریزی میں سب سے پہلے چمپئن ایڈیشن میں ایلیڈ کا ترجمہ کیا گیا۔جسے پڑھ کر انگریزی کے مشہور شاعر کیٹس نے اپنا مشہور سانٹ لکھا اس کے بعد دوسراا ہم ترجمہ الیگزنڈر پوپ کا ترجمہ ہے پھر اس کے بعد رچمنڈلیٹی مور،سرولیم مورس اور سمیوئیل بٹلر کے ترجمہ آئے اور ہومر پوری دنیا میں پڑھا جانے لگا اور انگریزی سے دوسری زبانوں میں ترجمے ہونے لگے۔محمد سلیم الرحمٰن نے اوڈیسی کا جہاں گرد کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا اور عالمی ادب ہومر کے اثر سے چھٹکارا نہ پا سکا"۔۔۔(۲۱)
ہومر کا فن
ہومر کے فن کے حوالے سے اگر بات کی جا ئےتو ہمارے سامنے اس کے دو شاہکار رزمیے ہیں جو اسکی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں دیگر تمام امور کی طرح یہاں بھی ناقدین میں اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض احباب ان تخلیقات کو ہومر سے منسوب کرتے ہیں تاہم کچھ اس بات سے انکاری ہیں البتہ جمہور کا فیصلہ یہی ہے کے یہ دونوں ہومر ہی کی تخلیقات ہیں۔ ان رزمیوں کے ذریعےہومر نے دنیا کو اپنی شاعرانہ صلاحیتوں ، صحت مند ذہن اور زبان پر قدرت جیسی خصوصیات سے نہ صرف اس دور بلکہ آنے والے ادوار میں بھی ادب سے شغف رکھنے والے اذہان کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ہومر کی ان رزمیہ نظموں سے ہمیں اس دور کے لوگوں کا رہن سہن ، رسوم ورواج اورمذہبی عقا ئد کا پتہ چلتا ہے۔کیونکہ یہ رزمیہ نظمیں ہیں اس لیے ہومر ہمیں میدان جنگ میں ہی گھومتا پھرتا نظر آتا ہےسب سے اہم شے اس دوران ہومر کا فنکارانہ بیان ہے وہ میدان جنگ کے مناظر کو اس خوبی کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ ہم خود کو میدان کارزار میں کھڑا محسوس کرتے ہیں اور یوں وہ ہمیں ان مشاہدات کے انتہائی قریب تر لے جاتاہے جو اس کے اپنے ہیں۔ ان نظموں میں وہ ہمیں نہ صرف میدان جنگ کے حالات سے روبرو کراتا ہے بلکہ ان میں ہمیں اس دور کے سماج کی تصاویر بھی دکھائی دیتی ہیں۔اس ضمن میں بار ی علیگ رقمطراز ہیں؛
ہومر کی رزمیہ نظموں کا موضوع تاریخی اعتبار سے ٹھیک ہو یا غلط ان کے ذریعے
یونانیوں کی مجلسی اور سیاسی زندگی کا پتہ چلتاہے۔ہومر کی نظموں میں سماج کا ابتدائی
نقشہ دکھائی دیتا ہے ایک ایسا سماج جو صرف اور صرف جنگ کے لیے ترتیب
دیا گیا ہو۔یہ سماج بناوٹ کے لحاظ سے پدرسری اور قبائلی تھا۔(۲۲)
اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قدیم یونان کس طبقاتی نظام میں جکڑا ہوا تھا ۔"زمانہ شجاعت کے یونانی گاؤں کی آبادی چار طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ زمین پر امیر قابض تھے دوسرا طبقہ مالک کاشتکاروں کا تھا جن کے پاس تھوڑی بہت زمین ہوتی تھی ،تیسرا طبقہ ان آزاد مزدوروں کا تھا جو اجرت پر کام کرتے تھے،چوتھا طبقہ غلاموں کا تھا "۔۔۔۔۔۔۔(۲۳)
غرض اگر ہومر کی شاعری کو عہد حاضر کی کسی بھی کسوٹی پر پرکھا جائے تو وہ کسی نہ کسی حد تک کھری ثابت ہوتی ہے۔
ہیسوڈ
اگر ہومر شاعری کی دنیا کاآدم ہے تو ہیسوڈ کو آدم ثانی کہنا بے جا نہ ہوگا۔ ہومر کے بعد یونانی ادبیات کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اسے ہیسوڈ جیسا شاعر ملا۔عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ عظیم لوگ تقلید سے متنفر ہوتے ہیں بقول اقبال؛
؎تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے؟؟؟
اگر یہ درست ہے تو پھر ہیسوڈ بھی ایک عظیم شاعر ہے کیونکہ اس نے ہومر جیسے شاعر کی تقلید سےمنہ موڑ کر اپنی راہ نکالی۔ہومر اور ہیسوڈ کے موضوعات میں بڑا تضاد ہے ہومر کے موضوعات میدان کارزار سے متعلق ہیں جبکہ ہیسوڈ کے موضوعات عوامی نوعیت کے ہیں وہ دیہاتوں میں پھرتا نظر آتا ہے اور موسموں کا حال بیان کرتا ہے۔ہیسوڈ نے عمر بھر شادی نہیں کی۔ہیسوڈ کی تصانیف یہ ہیں ؛
۱۔ورکس اینڈ ڈیز ۔
۲۔تھیوگونی۔
۳۔کیٹلاگ آف ویمن۔
۴۔ای اوامی۔
۵۔شیلئر آف ہرکلس۔
سیفو
سیفو کا عہد ساتویں صدی قبل مسیح خیال کیا جاتا ہے۔اسطرح وہ الکائیس کی ہمعصر تھی۔بچپن میں ہی یتیم ہوگئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ وہ کسی نوجوان پر عاشق تھی جسکی وجہ سے اس کے کلام میں عاشقانہ رنگ پایا جاتا ہے۔" اس کی غزل سرائی ایسی پر تاثیر تھی کہ اہل یونان اس کے مفتون و شیدا تھے"۔(۲۴)سیفو سے نو کتابیں منسوب ہیں۔جن میں مرثیہ اور حمدیہ کلام شامل ہے۔
پندار یا پنڈار
پندار یونان کا قومی شاعر ہے۔۔(۲۵)پندار۵۲۲قبل مسیح میں پیدا ہوا ۔اس کا تعلق ایک اسپارٹن خاندان سے تھا۔اس کے کلام کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو گیا۔ اس نے اخلاقی شاعری کی۔
یونانی ڈرامہ
یونانی ڈرامہ کا آغاز شراب کے دیوتا کی تعریف میں کہے جانے والے گیتوں سے ہوا۔۔۔(۲۶)یونان ڈرامے کے باب میں بھی خوش قسمت ہے کہ اسے ابتدا ہی میں ایسے ڈرامہ نگار مل گئے جنہوں نے اس فن کو دوام بخشااس حوالے سے،اسکائی لس،سفوکلیزاوریوریپیڈیز کے نام اہم ہیں۔یاد رہے کہ یہ تینوں المیہ نگار ہیں۔طربیہ کی صنف میں اہم نام ارسطوفینز کا ہے۔یونانی ڈرامہ پر بات کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ المیہ پر سرسری بات کر لی جائے۔
المیہ
المیہ کی تعریف ارسطونے بوطیقامیں یوں کی ہے۔"المیہ نقل ہے ایک ایسے عمل کی جو سنجیدہ اور مکمل ہو۔جس کی زبان ایسے وسائل سے مزین ہو جو اس کے مختلف حصوں میں نمایاں کیے گئے ہوں۔ جس کا طریقہ اظہار بیانیہ ہونے کے بجائے ڈرامائی ہو۔اس کے واقعات خوف اور رحم کے جذبات ابھاریں۔اس طرح ان جذبات کی اصلاح کیتھارسس ہو جائے۔المیہ کی اصطلاح عمومی زندگی کے بطن سے پھوٹ کر ادب کی دنیا میں داخل ہوئی ہے۔زندگی بجنسہ بڑا المیہ ہے اور اس کے متعلقات میں المیاتی سانحے رونما ہوتے رہتے ہیں۔پر المیہ ایک نئی صورت حال کو جنم دیتا ہے"۔۔۔(۲۷)
انسائکلوپیڈیا براٹینکا کے مطابق المیہ کی تعریف کچھ یوں ہے؛
TRAGEDY: branch of Drama that treats in serious and dignified style the sorrowful or terrible events encountered or caused by a heroic individual.(28)
اسکائیلس
اسکائیلس ۵۲۵ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ قدیم یونانیوں کے مطابق اسے دیوتا ڈایونی سس نے ڈرامہ لکھنے کی طرف مائل کیا۔ اسکائیلس کو ڈرامے کا موجد مانا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر وہاب اشرفی رقم طراز ہیں؛
اسکائیلس ڈرامے کا موجد ہے۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے ڈرامے کی ہیت
اور شکل متعین کی، مکالمہ نگاری کو رواج دیا اور ڈرامے میں دوسرا کردار لایا۔
اس سے قبل ڈراما مونولاگ کی صورت میں ملتا ہے۔ یعنی ایک شخص کسی کہانی کو ایک جگہ کھڑا ہو کر سناتا تھا۔(۲۹)
درج ذیل اقتباس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ڈرامے کو صحیح سمت اسکائیلس نے عطا کی۔یوں تو ڈراما اسکائیلس سےپہلے بھی ملتا ہےلیکن اس کو ہم صحیح معنوں میں ڈراما نہیں کہہ سکتے۔ اس نے کل نوے ڈرامے تخلیق کیے جن میں سے سات ہم تک پہنچے ہیں۔ اس نے اپنا پہلا ڈراما ۲۵ سال کی عمر میں تخلیق کیا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی سلجھا ہوا اسلوب ہے۔ اس کی زبان تشبیہ اور استعارے سے آراستہ ہے۔اسکایئلس کے جو ڈرامے ہم تک مربوط شکل میں پہنچے ہیں وہ درج ذیل ہیں؛
1. Seven Against Thebes
2. Agamennon
3. Cheophoroe
4. Suppliant Women
5. Perisian
6. Prometheus Bound
سوفیکلیز
سوفیکلیز ۴۹۶ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ سونی لس سامان جنگ تیار کرنے والے ایک کارخانے کا مالک تھا۔ سوفیکلیز کو اسکائیلس کے بعد یونان کا سب سے بڑا ڈراما نگار مانا جاتا ہے۔ سوفیکلیز ایڈیپس ریکس کا خالق ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا ڈراما قرار دیا جاتا ہے۔ اس نے ۱۲۰ ڈرامے تصنیف کیے اور ڈرامے میں تیسرے کردار کا اضافہ کیا۔ سوفیکلیز کی انفرادیت اس کے مضبوط نسوانی کردار ہیں۔ ایڈیپس ریکس کے بعد اس کا سب سے مشہور ڈراما الیکٹرا ہے۔
یوری پیڈیز
یوری پیڈیز ۴۸۰ قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے تھا۔ یہ المیہ نگاری کا آخری بڑا ڈرامہ نگار تھا۔ اس نے عورتوں کی فطری کمزوریوں کو اپنے ڈراموں میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ اس کے ڈراموں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر اپنے عہد کے گوناگوں رجحانات و میلانات کو لیے ہوئے ہیں۔اس نے کل ۹۵ ڈرامے لکھے جن میں سے ۱۹ آج دستیاب ہیں۔
1. ALCESTIS
2. MEDEA
3. HERACLEIDAE
4. HIPPOLYTUS
5. ANDROMACHE
6. HECUBA
7. THE SUPPLICANTS
8. ELECTRA
9. HERACLES
10. THE TROJAN WOMEN
11. IPHEGENIA IN TRURIS
12. ION
13. HELEN … (30)
جن ڈراموں کے نام اوپر دیے گئے ہیں وہ مکمل ڈرامے ہیں اس کے علاوہ جو ڈرامے ہیں وہ منتشر اشکال میں ملتے ہیں۔
طربیہ
کامیڈی یا طربیہ کا آغازبقول ارسطو جنسی اور فحش گیتوں سے ہوا۔ کامیڈی کا لفظ''کوم'' سے بنا ہے۔ جس کا مطلب ہے گاؤں۔۔۔۔(۳۱)
یونان کا سب سے مشہور طربیہ نگار ارسطو فینز ہے۔
ارسطوفینز
ارسطوفینز۴۴۸ قبل مسیح میں ایتھنز میں پیدا ہوا اور ۳۸۵کے دوران فوت ہوا۔ اس کے طربیہ ڈراموں میں فحش عناصر پائے جاتے ہیں۔فحاشی اور جنسی مناظر کے ساتھ ساتھ اس کے ہاں اپنے عہد کی سیاست، روزمرہ زندگی اور عصری ادب پر بھی ایک بھرپور طنز پائی جاتی ہے۔(۳۲)
اس نے اپنا پہلا ڈراما ۴۲۷ قبل مسیح میں لکھا۔ اس نے کل ۵۴ ڈرامے لکھے۔ اس کے اسلوب اور موضوعات میں اتنی جان ہے کہ لوگ آج بھی اسے شوق سے پڑھتے ہیں۔
ایسوپ
ایسوپ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ کہانیاں جانوروں، پرندوں اور درندوں سے متعلق ہیں۔ یہ سبق آموز کہانیاں ہیں جنہیں ''فیبل'' کہا جاتا ہے۔
حوالہ جات
۱۔احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر ۱۵
2.http://www.bratinica.com/art/Greek-literature.
14/10/2018,10:30AM
۳۔وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۸۴
۴۔باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۱
۵۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۸۷
۶۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۹
۷۔ایضاً صفحہ نمبر ۱۲۰
۸۔ بحوالہ مرتضی احمد خان، وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر ۸۹
۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۰
۱۰۔بادشاہ منیر بخاری ،ڈاکٹر،ولی محمد ،ڈاکٹر،۲۰۱۳ء،اوڈیسی میں اساطیری عناصر کا تحقیقی و توضیحی تجزیہ،:مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۹،صفحہ نمبر ۲۰۷
۱۱۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۱
۱۲۔حبیب حق ،کلاسیکی یونان : تہذیب،فلسفہ ،فنون لطیفہ،قومی قونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۵۰
۱۳۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۲
14. http://www.bratinica.com/art/Greek-literature.
14/10/2018,10:19 am
۱۵۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۵
۱۶۔احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۲۳
۱۷۔ایضاً صفحہ نمبر ۱۶
18.http://rekhtaurdupoetry.blogspot.com/2014/06/blog-post.html?m=1
14/10/2018,11:20 am
۱۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۹۶
۲۰۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۱۶
۲۱۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۱۷
۲۲۔۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۲۳
۲۳۔ایضاً صفحہ نمبر ۱۲۴
۲۴۔ بحوالہ مرتضی احمد خان، وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر ۱۲۶
۲۵۔ باری علیگ،تاریخ کا مطالعہ،بک فورٹ پبلی کیشنز لاہور،۲۰۱۵ء،صفحہ نمبر۱۴۷
۲۶۔ایضاً
۲۷۔انور جمال،پروفیسر،ادبی اصطلاحات ،نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد،اشاعت سوم ،۲۰۱۶ء، صفحہ نمبر ۴۴
28.http://www.bratanica.com/art/tragedy-literature.
14/10/2018,11:03 am
۲۹۔ وہاب اشرفی،ڈاکٹر،تاریخ ادبیات عالم،جلد اوّل،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوّس دہلی،اشاعت سوم ،۲۰۰۴ء،صفحہ نمبر۱۵۳
۳۰۔ احمد عقیل روبی ،علم و دانش کے معمار، نیشنل بک فاؤڈیشن اسلام آباد،۲۰۱۸ء،اشاعت چہارم، صفحہ نمبر۴۷،۴۸
۳۱۔ایضاًصفحہ نمبر۵۸،۵۷
۳۲۔ایضاً صفحہ نمبر ۵۷
عقیل احمد شاہ ، بی ایس میقات پنجم،شعبہ اردو جامعہ پشاور
ادب اور تاریخ کا رشتہ کیا ہے؟
مقالہ نگار نگرانِ کار
ڈاکٹر سہیل احمد
بی ایس میقات پنجم ،شعبہ اردو جامعہ پشاور پروفیسر ،شعبہ اردو جامعہ پشاور
رول نمبر :۱۹
شعبۂ اُردو جامعہ پشاور
سیشن: ۲۰۱۶ء -۲۰۲۰ء
ادب اور تاریخ کا رشتہ جاننے سے قبل یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ادب کیا ہے ،تاریخ کیا ہے جب ہم یہ جان لیں کہ ادب کیا ہے تاریخ کیا ہے تو پھر ہم آسانی سے یہ بھی جان سکتے ہیں کہ ادب اور تاریخ کا رشتہ کیا ہے ۔
ادب کیا ہے ؟
ادب کے لغوی معنی ’’ اخلاق ،تہذیب ،طور ، طریقہ پسندیدہ ، قاعدہ ،ضابطہ،حیا ،شرم ،لحاظ ،لاج ، (فرہنگِ آصفیہ ، جلد اول،صفحہ نمبر ۱۳۲) تعظیم ،تکریم ،لحاظ ، خوش اسلوبی ،شائستگی،نظم و نثر کی تخلیقات اور ا ن سے تعلق رکھنے والی تنقیدی یا تحقیقی انشائیں ‘‘ کے ہیں۔ (فرہنگِ تلفظ، ص نمبر ۲۵)
اصطلاحی معنوں میں’’ ادب سے مراد ا فرد واحد کے جذبات ، احساسات ،تجربات ،مشاہدات اور تخیلات کا مؤثر تحریری بیان ہے‘‘۔ ادب کے حوالے سے مختلف ناقدین تضادات کا شکار رہے ہیں اور ناقدین نے مختلف اوقات میں ادب کی مختلف تعریفیں پیش کیں ہیں ۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
ایس ایم معین قریشی ادب کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’جذبات ، احساسات ، تخیلات، تجربات،اور مشاہدات کا تحریری بیان ادب کہلاتا ہے‘‘۔۔(۱)
حامداللہ افسر ادب کے ضمن میں رقمطراز ہیں :
’’ادب روداد ہے انسان کے دل و دماغ پر خارجی موجودات کے نقوش و اثرات کی اور ان خیالات کی جو ان نقوش و اثرات کے ذریعے اس کے دل میں پیدا ہوئے‘‘۔۔(۲)
سید عابد علی عابد نے ادب کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
’’وسیع تر معانی میں ادب انسان کے افکار و تصورات کا تحریری بیان ہے‘‘۔۔(۳)
ڈاکٹر محمد اشرف کمال ادب کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ادب وہ نثری یا شعری تحریر ہے جس میں کوئی ادیب اپنے لطیف خیالات و احساسات اور داخلی یا خارجی کوائف کو منتخب اور خوبصورت الفاظ کی خوبصورت ترتیب کے ذریعے بیان کرے‘‘۔۔(۴)
پروفیسر انور جمال ادب کی تعریف کے باب میں لکھتے ہیں:
’’ ادب اپنے مخصوص معنوں میں تخلیقی اسالیب ِ اظہار یعنی ناول ، ڈرامہ ،شاعری، افسانہ ، اور انشائیے سے متعلق ہے ‘‘۔۔(۵)
انو رسدید لکھتے ہیں:
’’ ادب ایک سماجی عمل ہے اور یہ لفظ ،زبان اور تخلیقات کے حوالے سے بالواسطہ طور پر زندگی کو متاثر کرتا ہے اور اسی تاثیر کی بناء پر اکثر اوقات ادب کو افادی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘‘۔۔(۶)
ادب کی تعریف کے حوالے سے سید عبداللہ کے خیالات درج ذیل ہیں:
’’ادب وہ فن لطیف ہے جس کے ذریعے ادیب جذبات و افکار کو اپنے خاص نفسیاتی شخصی خصائص کے مطابق نہ صرف ظاہر کرتا ہے بلکہ الفاظ کے واسطے سے زندگی کے داخلی اور خارجی حقائق کی روشنی میں ان کی ترجمانی و تنقید بھی کرتا ہے اور اپنے تخیل اور قوت مخترعہ سے کام لے کر اظہار وبیان کے ایسے مؤثر پیرائے اختیار کرتا ہے ۔جن سے سامع و قاری کا جذبہ اور تخیل بھی تقریباً اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح ادیب کا اپنا تخیل اور جذبہ متاثر ہو اہو ‘‘۔۔(۷)
انسائیکلو پیڈیا براٹینیکا میں ادب کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
Literature, a body of written works. The name has traditionally been applied to those imaginative works of poetry and prose distinguished by the intentions of their authors and the perceived aesthetic excellence of their execution.…(8)
ادب کو جان لینے کے بعد یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ تاریخ کیا ہے کیونکہ بنا تاریخ کو جانے ہم تاریخ اور ادب کے تعلق کو نہیں سمجھ سکتے ۔
تاریخ کیا ہے؟
تاریخ کے لغوی معنی ’’گزشتہ زمانوں کے حالات کی تحقیق و تالیف کا علم ‘‘(فرہنگِ تلفظ ، صفحہ نمبر ۲۷۱) کسی امرِ عظیم کے وقت کاتعین ، وہ کتاب جس میں بادشاہوں کا حال مع سن پیدائش و جلوس اور وفات وغیرہ درج ہو،اس فن کا نام جس میں واقعات ِ عظیمہ کا حال سندرج ہو، تذکرہ بزرگاں و نام آوراں و علماء و فضلاء و شعراء وغیرہ‘‘کے ہیں (فرہنگِ آصفیہ، جلد اول ، صفحہ نمبر ۵۴۶)
عمومی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’عظیم لوگوں کے کوائف او رمخصوص واقعات کا بیان تاریخ ہے‘‘
ابنِ خلدون کے مطابق :
’’تاریخ انسانی معاشرے یا عالمی تہذیب اور اس میں ہونے والے تغیرات کی دستاویز ہے‘‘۔۔(۹)
میریم ویبسٹر ڈاٹ کام پر تاریخ کی تعریف ان الفاظ میں درج ہے:
A chronological record of significant events (such as those affecting a nation or institution) often including an explanation of their cause…(10)
انسائیکلو پیڈیا براٹینیکا میں تاریخ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
History, the discipline that studies the chronological record of events (as affecting a nation or people), based on a critical examination of source materials and usually presenting an explanation of their causes…(11)
ادب اور تاریخ کا رشتہ:
ہر شخص ہر قوم ہر ملک کی اپنی تا ریخ ہوتی ہے ،جس سے کم یا زیادہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق واقیفیت رکھتا ہے ۔ بلکل اسی طرح ادب کی بھی ایک تاریخ ہوتی ہے ، ادب اور تاریخ کا آپس میں ایک اٹوٹ رشتہ ہے ۔ادب جیسا کہ ہم جانتے ہیں کسی خاص دور میں تخلیق ہوتا ہے اور اس دور کے واقعات اس دور کے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں پھر ادیب ان واقعات سے اثر لے کر جب ادب تخلیق کرتا ہے تو اس ادب کے محرکات اور پسِ منظر کی تفہیم کے لیے تاریخ کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔مثلاً ۱۷۳۹ ء میں نادر شاہ افشار کا حملہ ، ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی ،۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند ، تاریخ کے چند ایسے اہم واقعات ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب کو بہت متاثر کیا ان واقعات سے ہمارے شعراء اور نثر نگاروں نے بہت اثر قبول کیا ،لہٰذا جب ہم ان واقعات کے نتیجے میں تخلیق کردہ ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کی درست تفہیم کے لیے ہمیں تاریخ کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔
اس حوالے سے ایک بات کا خیا ل رکھنا بہت ضروری ہے ،اور وہ یہ کہ ادبی تاریخ ایک عام تاریخ سے کافی حد تک مختلف ہوتی ہے تاریخ میں ہمارا مقصد کسی خاص ملک یا علاقے کے گزشتہ واقعات کو تفصیل کے ساتھ پیش کرنا ہوتا ہے لیکن ادبی تاریخ میں ہمارا مقصد کسی خاص دور میں ادب کے حوالے سے تاریخ کا مطالعہ ہے نہ کہ خالص تاریخی واقعات کا ۔’’ ادبی تاریخ کا سب سے اہم پہلو ادب کے ارتقاء کو پیش کرنا ہے‘‘ ۔(۱۲) بنیادی طور پر ادبی تاریخ کے پڑھنے اور پڑھانے کا مقصد تاریخ کے کسی خاص دور میں تخلیق کردہ ادب کے محرکات اور پسِ منظر کو سمجھنا ہے ۔مزید برآں یہ کہ ہمیں تاریخ سے اس دور کے سماج ،معاشرہ ،معاشرت طرز حکومت اور تہذیبی عناصر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔اس سب کے علاوہ ہم تاریخ کے آئینہ میں زبان اور اس کے بولنے والوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوتی ہیں ’’ادب کی تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہم زبان اور اس زبان کے بولنے والوں کی اجتماعی و تہذیبی روح کا عکس دیکھ سکتے ہیں‘‘۔(۱۳)
ادبی موّرخ کا کام یہاں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ زبان کی تاریخ اور وقتاً فوقتاً اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھی ادبی تاریخ کا حصہ ہونا چاہیئے۔’’ادب کی تاریخ بنیادی طور پر ادب کی تاریخ ہے ، لیکن ضمنی طور پر زبان کی تاریخ بھی ہے ۔زبان کے تغیرات اور تبدیلیاں معاشرے کی عہد بہ عہد تبدیلیوں سے ربط رکھتی ہیں۔ ان کو بھی ادبی تاریخ کا لازمی جزو بننا چاہیئے‘‘۔(۱۴)ان سب باتوں کے علاوہ ادبی تاریخ میں ناصرف زبان بننے کے عمل بلکہ اس کے پھلنے پھولنے کے اسباب اور لسانی حوالے سے بنیادی تصورات کو بھی شامل کرنا ادبی موّرخ کے فرائض میں شامل ہے ۔ بقول ڈاکٹر سہیل احمد :
’’زبان کے بننے ، پھیلنے اور ختم ہونے کے بارے میں بنیادی لسانی تصورات کے مباحث تاریخ ادب کے نصاب میں شامل کیے جائیں ‘‘۔(۱۵)
ادبی تاریخ کے حوالے سے ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ادبی تاریخ کو ٹکڑوں یا حصّوں میں بانٹنے کی بجائے ارتقائی اعتبار سے ایک وحدت کی شکل میں پڑھنا چاہیئے ۔
بقول ڈاکٹر جمیل جالبی ’’ادب کی تاریخ ایک ایسی اکائی ہے جسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہیں دیکھا جاسکتا‘‘۔(۱۶)
اس ضمن میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ تاریخ ِ ادب میں ادوار کو اہمیت دی جائے نہ کہ افراد کو ،ہم جب کسی دور کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس دور کے ادباء اس کے تحت آ جاتے ہیں لہٰذا انہیں علیحدہ طور پر اپنے دور سے الگ کر کے پڑھنا گمراہ کن تصور ہے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سہیل احمد لکھتے ہیں :
’’ادبی تاریخ کے پرچے میں شخصیات ،اصناف اور تحاریک کو تاریخی ادوار کی اکائی میں پڑھایا جائے‘‘۔(۱۷)
مثلاً دبستانِ دہلی کے تحت ؔمیر ، دؔرد ، سوؔدا، غاؔلب اور ذوؔق کو پڑھا جائے نہ کہ ان سب کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے۔
ادبی تاریخ کا کا م صرف یہ نہیں کہ اس میں واقعات کا انبار لگا دیا جائے اور مختلف واقعات کو جمع کر دیا جائے اور حقائق کو بغیر ترتیب کے پیش کر دیا جائے بلکہ ادبی تاریخ کا کام یہ ہے کہ ان تمام تاریخی واقعات اور حقائق کو ترتیب کے ساتھ مربوط شکل میں پیش کرے ۔اس ترتیب کے دوران واقعات کا اندراج اس ترتیب سے کیا جائے جس ترتیب سے وہ رونما ہوئے ہیں ۔
اس ضمن میں ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں:
’’تاریخ کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ واقعات و حقائق کا محض اندراج کردے بلکہ ضروری ہے کہ مختلف سروں کو باہمی ربط دے کر ایک ایسی تنظیم میں لے آئے کہ یہ تصویر پڑھنے والے کے ذہن پر نقش ہوجائے اور ادب کا حقیقی ،تاریخی ارتقاء بھی نظروں کے سامنے آجائے ۔ تاریخ بیک وقت کیوں اور کیسے کا جواب بھی ہے جس میں مختلف عوامل اور رجحانات کی وجہ دریافت کر کے انھیں ایک مشترک رشتے میں پرونا ہوتا ہے ‘‘۔(۱۸)
ادبی تاریخ کو صرف تاریخ کے چند خشک واقعات تک محدود نہیں رہنا چاہیئے بلکہ اس میں زندگی کی کشمکش ، بحر زیست میں رونما ہونے والے مدو جزر اورمعاشرے کی بدلتی ہوئی قدریں بھی نظر آنی چاہیئے۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی’’زندگی میں جو حرکت وعمل نظر آتے ہیں ان کی واضح جھلک ادبی تاریخ میں بھی نظر آنی چاہیئے۔ ادبی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آنی چاہیئے کہ حال کا ماضی سے کیا رشتہ ہے اور یہ بات بھی کہ حال ماضی کو کیسے بدلتا رہتا ہے‘‘۔(۱۹)
بحیثیتِ مجموعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ اد ب ، ادب کا ایک ایسا لازمی جزو ہے جس کے بغیر ادب کا سمجھنا محال ہے ۔
ادبی تاریخ کے اصول
اوپر کے مباحث کی روشنی میں ادبی تاریخ کے حوالے سے چند نکات سامنے آتے ہیں ۔ ان نکات کی روشنی میں ادبی تاریخ کے اصول یہ ہیں ۔
ادبی تاریخ کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ وہ ادب کا پس منظر بیان کرے ،لیکن پس منظر کے حوالے سے ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ پس منظر طویل نہ ہو بلکہ اس باب میں جامعیت اور اختصار سے کام لیا جائے۔
دوسری سب سے ضروری اور اہم بات یہ ہے کہ ادب کے حوالے سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے اور خالص تاریخ کی بجائے ادبی تاریخ پر زور دیا جائے ،کیونکہ ہمارا مقصد ادب کی تفہیم کے لیے تاریخ سے رجوع کرنا ہے نہ کہ خالص تاریخ کا مطالعہ۔
ادبی تاریخ کو محض تاریخیت تک محدود کرنا بھی ایک گمراہ کن بات ہوگی ، اس ضمن میں کوشش اس بات کی کی جائے کہ ادبی تاریخ میں زندگی کے نشیب و فراز ، معاشرے کی کشمکش اور سماج کا نقشہ بھی دکھائی دے ،کیونکہ ادب زندگی کی عکاسی کرتا ہے اور زندگی معاشر ے میں جنم لیتی اور پھلتی پھولتی ہے ،لہٰذا اس کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
ادبی تاریخ میں ادب کے ساتھ ساتھ زبان کی تاریخ کو بھی پیش کیا جانا ضروری ہے ۔زبان اسکا آغاز و ارتقاء اور لسانی مباحث کو بھی تاریخ ادب کا حصہ ہونا چاہیئے۔
تاریخ ادب کو ٹکڑوں کی بجائے ، ایک ارتقائی وحدت کی صورت میں پیش کیا جائے۔
افراد کی بجائے ادوار کو اہمیت دی جائے ، اور افراد ،اصناف اور تحاریک کو ادوار کے ذریعے سے پڑھا جائے۔
واقعات کو ترتیب کے ساتھ مربوط شکل میں اس طرح پیش کیا جائے کہ جس ترتیب سے وہ رونما ہوئے ہوں۔
تاریخ ادب میں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ سنی سنائی باتوں کو تقویت نہ ملے بلکہ حقائق کو چھان پھٹک کر صرف مستند مواد کو ہی تاریخ کا حصہ بنایا جائے اور من گھڑت باتوں سے ممکنہ حد تک اجتنا ب کیا جائے۔
حوالہ جات
۱۔ ایس ایم معین ،قریشی،اردو زبان و ادب ،تمہید،شیخ شوکت علی اینڈ سنز ، کراچی، ۱۹۸۶ء
۲۔ حامداللہ افسر، میرٹھی، تنقیدی اصول اور نظریے ، انجمنِ ترقی اردو پاکستان، کراچی،۱۹۷۵ء صفحہ نمبر ۳۱
۳۔عابد علی عابد،سید ، اصولِ انتقادِ ادبیات، مجلسِ ترقی ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء صفحہ نمبر ۱۷
۴۔محمد اشرف کمال ،ڈاکٹر ، تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات ، مثال پبلشرز ،فیصل آباد، ۲۰۱۶ءصفحہ نمبر۱۴۵
۵۔ انور جما ل،پروفیسر، ادبی اصطلاحات، نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد، ۲۰۱۶ء،صفحہ نمبر ۳۸
۶۔انور سدید ،ڈاکٹر ،اردو ادب کی تحریکیں ، انجمنِ ترقی ِ اردو، کراچی ،۲۰۱۰ء ،صفحہ نمبر ۴۲
۷۔سید عبداللہ،اشاراتِ تنقید ، مکتبہ خیابانِ ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء صفحہ نمبر ۳۲۴
8. https://www.britannica.com/search?query=LITERATURE
7:12 PM DATE:1/4/2019
۹۔بحوالہ ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر ۱۰۴
10. https://www.merriam-webster.com/dictionary/history
7:30PM DATE:1/4/2019
11. https://www.britannica.com/search?query=HISTORY
7:48PM DATE:1/4/2019
۱۲۔اشرف کمال ، ڈاکٹر، تاریخِ اصناف نظم و نثر،سٹی بک پوائنٹ ، کراچی،۲۰۱۷ء،صفحہ نمبر ۲۶۳
۱۳۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
۱۴۔سید عامر سہیل ، ڈاکٹر، نسیم عباس احمر، ادبی تاریخ نویسی، پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی، لاہور،۲۰۱۰ء صفحہ نمبر ۲۳
۱۵۔ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر۱۰۷
۱۶۔جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
۱۷۔ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر۱۰۸
۱۸۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء صفحہ نمبر ۱۲
۱۹۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء صفحہ نمبر۱۳
کتابیات
ادبی اصطلاحات ، انور جمال، نیشنل بک فاؤنڈیشن ،اسلام آباد، ۲۰۱۶ء
اردو زبان و ادب ، ایس ایم معین قرشی، شیخ شوکت علی اینڈ سنز ،کراچی، ۱۹۸۶ء
اردو ادب کی تحریکیں، انور سدید ، انجمنِ ترقی اردو ،کراچی،۲۰۱۰ء
ادبی تاریخ نویسی، سید عامر سہیل ، ڈاکٹر، نسیم عباس احمر، پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی، لاہور،۲۰۱۰ء
اشاراتِ تنقید، سید عبداللہ،مکتبہ خیابانِ ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء
اصول انتقادِ ادبیات ، سید عابد علی عابد،مجلسِ ترقی ادب لاہور،۱۹۶۶ء
تاریخ ِ ادبِ اردو، جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
تاریخِ ادبِ اردو،جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء
تاریخ اصناف نظم و نثر ، اشرف کمال ،سٹی بک پوائنٹ،کراچی،۲۰۱۷ء
تنقیدی اصول اور نظریے، حامداللہ افسر، میرٹھی، انجمنِ ترقی اردو پاکستان، کراچی،۱۹۷۵ء
تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات ، محمد اشرف کمال ،ڈاکٹر ،مثال پبلشرز ،فیصل آباد، ۲۰۱۶ء
رسائل
خیابان ،شعبہ اردو جامعہ پشاور،شمارہ نمبر ۲۶ ،۲۰۱۲ء
انٹرنیٹ
https://www.britannica.com
https://www.merriam-webster.com
مقالہ نگار نگرانِ کار
ڈاکٹر سہیل احمد
بی ایس میقات پنجم ،شعبہ اردو جامعہ پشاور پروفیسر ،شعبہ اردو جامعہ پشاور
رول نمبر :۱۹
شعبۂ اُردو جامعہ پشاور
سیشن: ۲۰۱۶ء -۲۰۲۰ء
ادب اور تاریخ کا رشتہ جاننے سے قبل یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ادب کیا ہے ،تاریخ کیا ہے جب ہم یہ جان لیں کہ ادب کیا ہے تاریخ کیا ہے تو پھر ہم آسانی سے یہ بھی جان سکتے ہیں کہ ادب اور تاریخ کا رشتہ کیا ہے ۔
ادب کیا ہے ؟
ادب کے لغوی معنی ’’ اخلاق ،تہذیب ،طور ، طریقہ پسندیدہ ، قاعدہ ،ضابطہ،حیا ،شرم ،لحاظ ،لاج ، (فرہنگِ آصفیہ ، جلد اول،صفحہ نمبر ۱۳۲) تعظیم ،تکریم ،لحاظ ، خوش اسلوبی ،شائستگی،نظم و نثر کی تخلیقات اور ا ن سے تعلق رکھنے والی تنقیدی یا تحقیقی انشائیں ‘‘ کے ہیں۔ (فرہنگِ تلفظ، ص نمبر ۲۵)
اصطلاحی معنوں میں’’ ادب سے مراد ا فرد واحد کے جذبات ، احساسات ،تجربات ،مشاہدات اور تخیلات کا مؤثر تحریری بیان ہے‘‘۔ ادب کے حوالے سے مختلف ناقدین تضادات کا شکار رہے ہیں اور ناقدین نے مختلف اوقات میں ادب کی مختلف تعریفیں پیش کیں ہیں ۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
ایس ایم معین قریشی ادب کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’جذبات ، احساسات ، تخیلات، تجربات،اور مشاہدات کا تحریری بیان ادب کہلاتا ہے‘‘۔۔(۱)
حامداللہ افسر ادب کے ضمن میں رقمطراز ہیں :
’’ادب روداد ہے انسان کے دل و دماغ پر خارجی موجودات کے نقوش و اثرات کی اور ان خیالات کی جو ان نقوش و اثرات کے ذریعے اس کے دل میں پیدا ہوئے‘‘۔۔(۲)
سید عابد علی عابد نے ادب کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
’’وسیع تر معانی میں ادب انسان کے افکار و تصورات کا تحریری بیان ہے‘‘۔۔(۳)
ڈاکٹر محمد اشرف کمال ادب کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ادب وہ نثری یا شعری تحریر ہے جس میں کوئی ادیب اپنے لطیف خیالات و احساسات اور داخلی یا خارجی کوائف کو منتخب اور خوبصورت الفاظ کی خوبصورت ترتیب کے ذریعے بیان کرے‘‘۔۔(۴)
پروفیسر انور جمال ادب کی تعریف کے باب میں لکھتے ہیں:
’’ ادب اپنے مخصوص معنوں میں تخلیقی اسالیب ِ اظہار یعنی ناول ، ڈرامہ ،شاعری، افسانہ ، اور انشائیے سے متعلق ہے ‘‘۔۔(۵)
انو رسدید لکھتے ہیں:
’’ ادب ایک سماجی عمل ہے اور یہ لفظ ،زبان اور تخلیقات کے حوالے سے بالواسطہ طور پر زندگی کو متاثر کرتا ہے اور اسی تاثیر کی بناء پر اکثر اوقات ادب کو افادی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘‘۔۔(۶)
ادب کی تعریف کے حوالے سے سید عبداللہ کے خیالات درج ذیل ہیں:
’’ادب وہ فن لطیف ہے جس کے ذریعے ادیب جذبات و افکار کو اپنے خاص نفسیاتی شخصی خصائص کے مطابق نہ صرف ظاہر کرتا ہے بلکہ الفاظ کے واسطے سے زندگی کے داخلی اور خارجی حقائق کی روشنی میں ان کی ترجمانی و تنقید بھی کرتا ہے اور اپنے تخیل اور قوت مخترعہ سے کام لے کر اظہار وبیان کے ایسے مؤثر پیرائے اختیار کرتا ہے ۔جن سے سامع و قاری کا جذبہ اور تخیل بھی تقریباً اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح ادیب کا اپنا تخیل اور جذبہ متاثر ہو اہو ‘‘۔۔(۷)
انسائیکلو پیڈیا براٹینیکا میں ادب کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
Literature, a body of written works. The name has traditionally been applied to those imaginative works of poetry and prose distinguished by the intentions of their authors and the perceived aesthetic excellence of their execution.…(8)
ادب کو جان لینے کے بعد یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ تاریخ کیا ہے کیونکہ بنا تاریخ کو جانے ہم تاریخ اور ادب کے تعلق کو نہیں سمجھ سکتے ۔
تاریخ کیا ہے؟
تاریخ کے لغوی معنی ’’گزشتہ زمانوں کے حالات کی تحقیق و تالیف کا علم ‘‘(فرہنگِ تلفظ ، صفحہ نمبر ۲۷۱) کسی امرِ عظیم کے وقت کاتعین ، وہ کتاب جس میں بادشاہوں کا حال مع سن پیدائش و جلوس اور وفات وغیرہ درج ہو،اس فن کا نام جس میں واقعات ِ عظیمہ کا حال سندرج ہو، تذکرہ بزرگاں و نام آوراں و علماء و فضلاء و شعراء وغیرہ‘‘کے ہیں (فرہنگِ آصفیہ، جلد اول ، صفحہ نمبر ۵۴۶)
عمومی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’عظیم لوگوں کے کوائف او رمخصوص واقعات کا بیان تاریخ ہے‘‘
ابنِ خلدون کے مطابق :
’’تاریخ انسانی معاشرے یا عالمی تہذیب اور اس میں ہونے والے تغیرات کی دستاویز ہے‘‘۔۔(۹)
میریم ویبسٹر ڈاٹ کام پر تاریخ کی تعریف ان الفاظ میں درج ہے:
A chronological record of significant events (such as those affecting a nation or institution) often including an explanation of their cause…(10)
انسائیکلو پیڈیا براٹینیکا میں تاریخ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
History, the discipline that studies the chronological record of events (as affecting a nation or people), based on a critical examination of source materials and usually presenting an explanation of their causes…(11)
ادب اور تاریخ کا رشتہ:
ہر شخص ہر قوم ہر ملک کی اپنی تا ریخ ہوتی ہے ،جس سے کم یا زیادہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق واقیفیت رکھتا ہے ۔ بلکل اسی طرح ادب کی بھی ایک تاریخ ہوتی ہے ، ادب اور تاریخ کا آپس میں ایک اٹوٹ رشتہ ہے ۔ادب جیسا کہ ہم جانتے ہیں کسی خاص دور میں تخلیق ہوتا ہے اور اس دور کے واقعات اس دور کے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں پھر ادیب ان واقعات سے اثر لے کر جب ادب تخلیق کرتا ہے تو اس ادب کے محرکات اور پسِ منظر کی تفہیم کے لیے تاریخ کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔مثلاً ۱۷۳۹ ء میں نادر شاہ افشار کا حملہ ، ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی ،۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند ، تاریخ کے چند ایسے اہم واقعات ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب کو بہت متاثر کیا ان واقعات سے ہمارے شعراء اور نثر نگاروں نے بہت اثر قبول کیا ،لہٰذا جب ہم ان واقعات کے نتیجے میں تخلیق کردہ ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کی درست تفہیم کے لیے ہمیں تاریخ کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔
اس حوالے سے ایک بات کا خیا ل رکھنا بہت ضروری ہے ،اور وہ یہ کہ ادبی تاریخ ایک عام تاریخ سے کافی حد تک مختلف ہوتی ہے تاریخ میں ہمارا مقصد کسی خاص ملک یا علاقے کے گزشتہ واقعات کو تفصیل کے ساتھ پیش کرنا ہوتا ہے لیکن ادبی تاریخ میں ہمارا مقصد کسی خاص دور میں ادب کے حوالے سے تاریخ کا مطالعہ ہے نہ کہ خالص تاریخی واقعات کا ۔’’ ادبی تاریخ کا سب سے اہم پہلو ادب کے ارتقاء کو پیش کرنا ہے‘‘ ۔(۱۲) بنیادی طور پر ادبی تاریخ کے پڑھنے اور پڑھانے کا مقصد تاریخ کے کسی خاص دور میں تخلیق کردہ ادب کے محرکات اور پسِ منظر کو سمجھنا ہے ۔مزید برآں یہ کہ ہمیں تاریخ سے اس دور کے سماج ،معاشرہ ،معاشرت طرز حکومت اور تہذیبی عناصر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔اس سب کے علاوہ ہم تاریخ کے آئینہ میں زبان اور اس کے بولنے والوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوتی ہیں ’’ادب کی تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہم زبان اور اس زبان کے بولنے والوں کی اجتماعی و تہذیبی روح کا عکس دیکھ سکتے ہیں‘‘۔(۱۳)
ادبی موّرخ کا کام یہاں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ زبان کی تاریخ اور وقتاً فوقتاً اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھی ادبی تاریخ کا حصہ ہونا چاہیئے۔’’ادب کی تاریخ بنیادی طور پر ادب کی تاریخ ہے ، لیکن ضمنی طور پر زبان کی تاریخ بھی ہے ۔زبان کے تغیرات اور تبدیلیاں معاشرے کی عہد بہ عہد تبدیلیوں سے ربط رکھتی ہیں۔ ان کو بھی ادبی تاریخ کا لازمی جزو بننا چاہیئے‘‘۔(۱۴)ان سب باتوں کے علاوہ ادبی تاریخ میں ناصرف زبان بننے کے عمل بلکہ اس کے پھلنے پھولنے کے اسباب اور لسانی حوالے سے بنیادی تصورات کو بھی شامل کرنا ادبی موّرخ کے فرائض میں شامل ہے ۔ بقول ڈاکٹر سہیل احمد :
’’زبان کے بننے ، پھیلنے اور ختم ہونے کے بارے میں بنیادی لسانی تصورات کے مباحث تاریخ ادب کے نصاب میں شامل کیے جائیں ‘‘۔(۱۵)
ادبی تاریخ کے حوالے سے ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ادبی تاریخ کو ٹکڑوں یا حصّوں میں بانٹنے کی بجائے ارتقائی اعتبار سے ایک وحدت کی شکل میں پڑھنا چاہیئے ۔
بقول ڈاکٹر جمیل جالبی ’’ادب کی تاریخ ایک ایسی اکائی ہے جسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہیں دیکھا جاسکتا‘‘۔(۱۶)
اس ضمن میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ تاریخ ِ ادب میں ادوار کو اہمیت دی جائے نہ کہ افراد کو ،ہم جب کسی دور کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس دور کے ادباء اس کے تحت آ جاتے ہیں لہٰذا انہیں علیحدہ طور پر اپنے دور سے الگ کر کے پڑھنا گمراہ کن تصور ہے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سہیل احمد لکھتے ہیں :
’’ادبی تاریخ کے پرچے میں شخصیات ،اصناف اور تحاریک کو تاریخی ادوار کی اکائی میں پڑھایا جائے‘‘۔(۱۷)
مثلاً دبستانِ دہلی کے تحت ؔمیر ، دؔرد ، سوؔدا، غاؔلب اور ذوؔق کو پڑھا جائے نہ کہ ان سب کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے۔
ادبی تاریخ کا کا م صرف یہ نہیں کہ اس میں واقعات کا انبار لگا دیا جائے اور مختلف واقعات کو جمع کر دیا جائے اور حقائق کو بغیر ترتیب کے پیش کر دیا جائے بلکہ ادبی تاریخ کا کام یہ ہے کہ ان تمام تاریخی واقعات اور حقائق کو ترتیب کے ساتھ مربوط شکل میں پیش کرے ۔اس ترتیب کے دوران واقعات کا اندراج اس ترتیب سے کیا جائے جس ترتیب سے وہ رونما ہوئے ہیں ۔
اس ضمن میں ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں:
’’تاریخ کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ واقعات و حقائق کا محض اندراج کردے بلکہ ضروری ہے کہ مختلف سروں کو باہمی ربط دے کر ایک ایسی تنظیم میں لے آئے کہ یہ تصویر پڑھنے والے کے ذہن پر نقش ہوجائے اور ادب کا حقیقی ،تاریخی ارتقاء بھی نظروں کے سامنے آجائے ۔ تاریخ بیک وقت کیوں اور کیسے کا جواب بھی ہے جس میں مختلف عوامل اور رجحانات کی وجہ دریافت کر کے انھیں ایک مشترک رشتے میں پرونا ہوتا ہے ‘‘۔(۱۸)
ادبی تاریخ کو صرف تاریخ کے چند خشک واقعات تک محدود نہیں رہنا چاہیئے بلکہ اس میں زندگی کی کشمکش ، بحر زیست میں رونما ہونے والے مدو جزر اورمعاشرے کی بدلتی ہوئی قدریں بھی نظر آنی چاہیئے۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی’’زندگی میں جو حرکت وعمل نظر آتے ہیں ان کی واضح جھلک ادبی تاریخ میں بھی نظر آنی چاہیئے۔ ادبی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آنی چاہیئے کہ حال کا ماضی سے کیا رشتہ ہے اور یہ بات بھی کہ حال ماضی کو کیسے بدلتا رہتا ہے‘‘۔(۱۹)
بحیثیتِ مجموعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ اد ب ، ادب کا ایک ایسا لازمی جزو ہے جس کے بغیر ادب کا سمجھنا محال ہے ۔
ادبی تاریخ کے اصول
اوپر کے مباحث کی روشنی میں ادبی تاریخ کے حوالے سے چند نکات سامنے آتے ہیں ۔ ان نکات کی روشنی میں ادبی تاریخ کے اصول یہ ہیں ۔
ادبی تاریخ کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ وہ ادب کا پس منظر بیان کرے ،لیکن پس منظر کے حوالے سے ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ پس منظر طویل نہ ہو بلکہ اس باب میں جامعیت اور اختصار سے کام لیا جائے۔
دوسری سب سے ضروری اور اہم بات یہ ہے کہ ادب کے حوالے سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے اور خالص تاریخ کی بجائے ادبی تاریخ پر زور دیا جائے ،کیونکہ ہمارا مقصد ادب کی تفہیم کے لیے تاریخ سے رجوع کرنا ہے نہ کہ خالص تاریخ کا مطالعہ۔
ادبی تاریخ کو محض تاریخیت تک محدود کرنا بھی ایک گمراہ کن بات ہوگی ، اس ضمن میں کوشش اس بات کی کی جائے کہ ادبی تاریخ میں زندگی کے نشیب و فراز ، معاشرے کی کشمکش اور سماج کا نقشہ بھی دکھائی دے ،کیونکہ ادب زندگی کی عکاسی کرتا ہے اور زندگی معاشر ے میں جنم لیتی اور پھلتی پھولتی ہے ،لہٰذا اس کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
ادبی تاریخ میں ادب کے ساتھ ساتھ زبان کی تاریخ کو بھی پیش کیا جانا ضروری ہے ۔زبان اسکا آغاز و ارتقاء اور لسانی مباحث کو بھی تاریخ ادب کا حصہ ہونا چاہیئے۔
تاریخ ادب کو ٹکڑوں کی بجائے ، ایک ارتقائی وحدت کی صورت میں پیش کیا جائے۔
افراد کی بجائے ادوار کو اہمیت دی جائے ، اور افراد ،اصناف اور تحاریک کو ادوار کے ذریعے سے پڑھا جائے۔
واقعات کو ترتیب کے ساتھ مربوط شکل میں اس طرح پیش کیا جائے کہ جس ترتیب سے وہ رونما ہوئے ہوں۔
تاریخ ادب میں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ سنی سنائی باتوں کو تقویت نہ ملے بلکہ حقائق کو چھان پھٹک کر صرف مستند مواد کو ہی تاریخ کا حصہ بنایا جائے اور من گھڑت باتوں سے ممکنہ حد تک اجتنا ب کیا جائے۔
حوالہ جات
۱۔ ایس ایم معین ،قریشی،اردو زبان و ادب ،تمہید،شیخ شوکت علی اینڈ سنز ، کراچی، ۱۹۸۶ء
۲۔ حامداللہ افسر، میرٹھی، تنقیدی اصول اور نظریے ، انجمنِ ترقی اردو پاکستان، کراچی،۱۹۷۵ء صفحہ نمبر ۳۱
۳۔عابد علی عابد،سید ، اصولِ انتقادِ ادبیات، مجلسِ ترقی ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء صفحہ نمبر ۱۷
۴۔محمد اشرف کمال ،ڈاکٹر ، تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات ، مثال پبلشرز ،فیصل آباد، ۲۰۱۶ءصفحہ نمبر۱۴۵
۵۔ انور جما ل،پروفیسر، ادبی اصطلاحات، نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد، ۲۰۱۶ء،صفحہ نمبر ۳۸
۶۔انور سدید ،ڈاکٹر ،اردو ادب کی تحریکیں ، انجمنِ ترقی ِ اردو، کراچی ،۲۰۱۰ء ،صفحہ نمبر ۴۲
۷۔سید عبداللہ،اشاراتِ تنقید ، مکتبہ خیابانِ ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء صفحہ نمبر ۳۲۴
8. https://www.britannica.com/search?query=LITERATURE
7:12 PM DATE:1/4/2019
۹۔بحوالہ ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر ۱۰۴
10. https://www.merriam-webster.com/dictionary/history
7:30PM DATE:1/4/2019
11. https://www.britannica.com/search?query=HISTORY
7:48PM DATE:1/4/2019
۱۲۔اشرف کمال ، ڈاکٹر، تاریخِ اصناف نظم و نثر،سٹی بک پوائنٹ ، کراچی،۲۰۱۷ء،صفحہ نمبر ۲۶۳
۱۳۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
۱۴۔سید عامر سہیل ، ڈاکٹر، نسیم عباس احمر، ادبی تاریخ نویسی، پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی، لاہور،۲۰۱۰ء صفحہ نمبر ۲۳
۱۵۔ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر۱۰۷
۱۶۔جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
۱۷۔ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر۱۰۸
۱۸۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء صفحہ نمبر ۱۲
۱۹۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء صفحہ نمبر۱۳
کتابیات
ادبی اصطلاحات ، انور جمال، نیشنل بک فاؤنڈیشن ،اسلام آباد، ۲۰۱۶ء
اردو زبان و ادب ، ایس ایم معین قرشی، شیخ شوکت علی اینڈ سنز ،کراچی، ۱۹۸۶ء
اردو ادب کی تحریکیں، انور سدید ، انجمنِ ترقی اردو ،کراچی،۲۰۱۰ء
ادبی تاریخ نویسی، سید عامر سہیل ، ڈاکٹر، نسیم عباس احمر، پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی، لاہور،۲۰۱۰ء
اشاراتِ تنقید، سید عبداللہ،مکتبہ خیابانِ ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء
اصول انتقادِ ادبیات ، سید عابد علی عابد،مجلسِ ترقی ادب لاہور،۱۹۶۶ء
تاریخ ِ ادبِ اردو، جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
تاریخِ ادبِ اردو،جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء
تاریخ اصناف نظم و نثر ، اشرف کمال ،سٹی بک پوائنٹ،کراچی،۲۰۱۷ء
تنقیدی اصول اور نظریے، حامداللہ افسر، میرٹھی، انجمنِ ترقی اردو پاکستان، کراچی،۱۹۷۵ء
تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات ، محمد اشرف کمال ،ڈاکٹر ،مثال پبلشرز ،فیصل آباد، ۲۰۱۶ء
رسائل
خیابان ،شعبہ اردو جامعہ پشاور،شمارہ نمبر ۲۶ ،۲۰۱۲ء
انٹرنیٹ
https://www.britannica.com
https://www.merriam-webster.com
Subscribe to:
Posts (Atom)