مقالہ نگار نگرانِ کار
ڈاکٹر سہیل احمد
بی ایس میقات پنجم ،شعبہ اردو جامعہ پشاور پروفیسر ،شعبہ اردو جامعہ پشاور
رول نمبر :۱۹
شعبۂ اُردو جامعہ پشاور
سیشن: ۲۰۱۶ء -۲۰۲۰ء
ادب اور تاریخ کا رشتہ جاننے سے قبل یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ادب کیا ہے ،تاریخ کیا ہے جب ہم یہ جان لیں کہ ادب کیا ہے تاریخ کیا ہے تو پھر ہم آسانی سے یہ بھی جان سکتے ہیں کہ ادب اور تاریخ کا رشتہ کیا ہے ۔
ادب کیا ہے ؟
ادب کے لغوی معنی ’’ اخلاق ،تہذیب ،طور ، طریقہ پسندیدہ ، قاعدہ ،ضابطہ،حیا ،شرم ،لحاظ ،لاج ، (فرہنگِ آصفیہ ، جلد اول،صفحہ نمبر ۱۳۲) تعظیم ،تکریم ،لحاظ ، خوش اسلوبی ،شائستگی،نظم و نثر کی تخلیقات اور ا ن سے تعلق رکھنے والی تنقیدی یا تحقیقی انشائیں ‘‘ کے ہیں۔ (فرہنگِ تلفظ، ص نمبر ۲۵)
اصطلاحی معنوں میں’’ ادب سے مراد ا فرد واحد کے جذبات ، احساسات ،تجربات ،مشاہدات اور تخیلات کا مؤثر تحریری بیان ہے‘‘۔ ادب کے حوالے سے مختلف ناقدین تضادات کا شکار رہے ہیں اور ناقدین نے مختلف اوقات میں ادب کی مختلف تعریفیں پیش کیں ہیں ۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں ۔
ایس ایم معین قریشی ادب کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’جذبات ، احساسات ، تخیلات، تجربات،اور مشاہدات کا تحریری بیان ادب کہلاتا ہے‘‘۔۔(۱)
حامداللہ افسر ادب کے ضمن میں رقمطراز ہیں :
’’ادب روداد ہے انسان کے دل و دماغ پر خارجی موجودات کے نقوش و اثرات کی اور ان خیالات کی جو ان نقوش و اثرات کے ذریعے اس کے دل میں پیدا ہوئے‘‘۔۔(۲)
سید عابد علی عابد نے ادب کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
’’وسیع تر معانی میں ادب انسان کے افکار و تصورات کا تحریری بیان ہے‘‘۔۔(۳)
ڈاکٹر محمد اشرف کمال ادب کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ادب وہ نثری یا شعری تحریر ہے جس میں کوئی ادیب اپنے لطیف خیالات و احساسات اور داخلی یا خارجی کوائف کو منتخب اور خوبصورت الفاظ کی خوبصورت ترتیب کے ذریعے بیان کرے‘‘۔۔(۴)
پروفیسر انور جمال ادب کی تعریف کے باب میں لکھتے ہیں:
’’ ادب اپنے مخصوص معنوں میں تخلیقی اسالیب ِ اظہار یعنی ناول ، ڈرامہ ،شاعری، افسانہ ، اور انشائیے سے متعلق ہے ‘‘۔۔(۵)
انو رسدید لکھتے ہیں:
’’ ادب ایک سماجی عمل ہے اور یہ لفظ ،زبان اور تخلیقات کے حوالے سے بالواسطہ طور پر زندگی کو متاثر کرتا ہے اور اسی تاثیر کی بناء پر اکثر اوقات ادب کو افادی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘‘۔۔(۶)
ادب کی تعریف کے حوالے سے سید عبداللہ کے خیالات درج ذیل ہیں:
’’ادب وہ فن لطیف ہے جس کے ذریعے ادیب جذبات و افکار کو اپنے خاص نفسیاتی شخصی خصائص کے مطابق نہ صرف ظاہر کرتا ہے بلکہ الفاظ کے واسطے سے زندگی کے داخلی اور خارجی حقائق کی روشنی میں ان کی ترجمانی و تنقید بھی کرتا ہے اور اپنے تخیل اور قوت مخترعہ سے کام لے کر اظہار وبیان کے ایسے مؤثر پیرائے اختیار کرتا ہے ۔جن سے سامع و قاری کا جذبہ اور تخیل بھی تقریباً اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح ادیب کا اپنا تخیل اور جذبہ متاثر ہو اہو ‘‘۔۔(۷)
انسائیکلو پیڈیا براٹینیکا میں ادب کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
Literature, a body of written works. The name has traditionally been applied to those imaginative works of poetry and prose distinguished by the intentions of their authors and the perceived aesthetic excellence of their execution.…(8)
ادب کو جان لینے کے بعد یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ تاریخ کیا ہے کیونکہ بنا تاریخ کو جانے ہم تاریخ اور ادب کے تعلق کو نہیں سمجھ سکتے ۔
تاریخ کیا ہے؟
تاریخ کے لغوی معنی ’’گزشتہ زمانوں کے حالات کی تحقیق و تالیف کا علم ‘‘(فرہنگِ تلفظ ، صفحہ نمبر ۲۷۱) کسی امرِ عظیم کے وقت کاتعین ، وہ کتاب جس میں بادشاہوں کا حال مع سن پیدائش و جلوس اور وفات وغیرہ درج ہو،اس فن کا نام جس میں واقعات ِ عظیمہ کا حال سندرج ہو، تذکرہ بزرگاں و نام آوراں و علماء و فضلاء و شعراء وغیرہ‘‘کے ہیں (فرہنگِ آصفیہ، جلد اول ، صفحہ نمبر ۵۴۶)
عمومی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’عظیم لوگوں کے کوائف او رمخصوص واقعات کا بیان تاریخ ہے‘‘
ابنِ خلدون کے مطابق :
’’تاریخ انسانی معاشرے یا عالمی تہذیب اور اس میں ہونے والے تغیرات کی دستاویز ہے‘‘۔۔(۹)
میریم ویبسٹر ڈاٹ کام پر تاریخ کی تعریف ان الفاظ میں درج ہے:
A chronological record of significant events (such as those affecting a nation or institution) often including an explanation of their cause…(10)
انسائیکلو پیڈیا براٹینیکا میں تاریخ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
History, the discipline that studies the chronological record of events (as affecting a nation or people), based on a critical examination of source materials and usually presenting an explanation of their causes…(11)
ادب اور تاریخ کا رشتہ:
ہر شخص ہر قوم ہر ملک کی اپنی تا ریخ ہوتی ہے ،جس سے کم یا زیادہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق واقیفیت رکھتا ہے ۔ بلکل اسی طرح ادب کی بھی ایک تاریخ ہوتی ہے ، ادب اور تاریخ کا آپس میں ایک اٹوٹ رشتہ ہے ۔ادب جیسا کہ ہم جانتے ہیں کسی خاص دور میں تخلیق ہوتا ہے اور اس دور کے واقعات اس دور کے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں پھر ادیب ان واقعات سے اثر لے کر جب ادب تخلیق کرتا ہے تو اس ادب کے محرکات اور پسِ منظر کی تفہیم کے لیے تاریخ کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔مثلاً ۱۷۳۹ ء میں نادر شاہ افشار کا حملہ ، ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی ،۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند ، تاریخ کے چند ایسے اہم واقعات ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب کو بہت متاثر کیا ان واقعات سے ہمارے شعراء اور نثر نگاروں نے بہت اثر قبول کیا ،لہٰذا جب ہم ان واقعات کے نتیجے میں تخلیق کردہ ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کی درست تفہیم کے لیے ہمیں تاریخ کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔
اس حوالے سے ایک بات کا خیا ل رکھنا بہت ضروری ہے ،اور وہ یہ کہ ادبی تاریخ ایک عام تاریخ سے کافی حد تک مختلف ہوتی ہے تاریخ میں ہمارا مقصد کسی خاص ملک یا علاقے کے گزشتہ واقعات کو تفصیل کے ساتھ پیش کرنا ہوتا ہے لیکن ادبی تاریخ میں ہمارا مقصد کسی خاص دور میں ادب کے حوالے سے تاریخ کا مطالعہ ہے نہ کہ خالص تاریخی واقعات کا ۔’’ ادبی تاریخ کا سب سے اہم پہلو ادب کے ارتقاء کو پیش کرنا ہے‘‘ ۔(۱۲) بنیادی طور پر ادبی تاریخ کے پڑھنے اور پڑھانے کا مقصد تاریخ کے کسی خاص دور میں تخلیق کردہ ادب کے محرکات اور پسِ منظر کو سمجھنا ہے ۔مزید برآں یہ کہ ہمیں تاریخ سے اس دور کے سماج ،معاشرہ ،معاشرت طرز حکومت اور تہذیبی عناصر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔اس سب کے علاوہ ہم تاریخ کے آئینہ میں زبان اور اس کے بولنے والوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوتی ہیں ’’ادب کی تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہم زبان اور اس زبان کے بولنے والوں کی اجتماعی و تہذیبی روح کا عکس دیکھ سکتے ہیں‘‘۔(۱۳)
ادبی موّرخ کا کام یہاں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ زبان کی تاریخ اور وقتاً فوقتاً اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھی ادبی تاریخ کا حصہ ہونا چاہیئے۔’’ادب کی تاریخ بنیادی طور پر ادب کی تاریخ ہے ، لیکن ضمنی طور پر زبان کی تاریخ بھی ہے ۔زبان کے تغیرات اور تبدیلیاں معاشرے کی عہد بہ عہد تبدیلیوں سے ربط رکھتی ہیں۔ ان کو بھی ادبی تاریخ کا لازمی جزو بننا چاہیئے‘‘۔(۱۴)ان سب باتوں کے علاوہ ادبی تاریخ میں ناصرف زبان بننے کے عمل بلکہ اس کے پھلنے پھولنے کے اسباب اور لسانی حوالے سے بنیادی تصورات کو بھی شامل کرنا ادبی موّرخ کے فرائض میں شامل ہے ۔ بقول ڈاکٹر سہیل احمد :
’’زبان کے بننے ، پھیلنے اور ختم ہونے کے بارے میں بنیادی لسانی تصورات کے مباحث تاریخ ادب کے نصاب میں شامل کیے جائیں ‘‘۔(۱۵)
ادبی تاریخ کے حوالے سے ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ادبی تاریخ کو ٹکڑوں یا حصّوں میں بانٹنے کی بجائے ارتقائی اعتبار سے ایک وحدت کی شکل میں پڑھنا چاہیئے ۔
بقول ڈاکٹر جمیل جالبی ’’ادب کی تاریخ ایک ایسی اکائی ہے جسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہیں دیکھا جاسکتا‘‘۔(۱۶)
اس ضمن میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ تاریخ ِ ادب میں ادوار کو اہمیت دی جائے نہ کہ افراد کو ،ہم جب کسی دور کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس دور کے ادباء اس کے تحت آ جاتے ہیں لہٰذا انہیں علیحدہ طور پر اپنے دور سے الگ کر کے پڑھنا گمراہ کن تصور ہے ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سہیل احمد لکھتے ہیں :
’’ادبی تاریخ کے پرچے میں شخصیات ،اصناف اور تحاریک کو تاریخی ادوار کی اکائی میں پڑھایا جائے‘‘۔(۱۷)
مثلاً دبستانِ دہلی کے تحت ؔمیر ، دؔرد ، سوؔدا، غاؔلب اور ذوؔق کو پڑھا جائے نہ کہ ان سب کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے۔
ادبی تاریخ کا کا م صرف یہ نہیں کہ اس میں واقعات کا انبار لگا دیا جائے اور مختلف واقعات کو جمع کر دیا جائے اور حقائق کو بغیر ترتیب کے پیش کر دیا جائے بلکہ ادبی تاریخ کا کام یہ ہے کہ ان تمام تاریخی واقعات اور حقائق کو ترتیب کے ساتھ مربوط شکل میں پیش کرے ۔اس ترتیب کے دوران واقعات کا اندراج اس ترتیب سے کیا جائے جس ترتیب سے وہ رونما ہوئے ہیں ۔
اس ضمن میں ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں:
’’تاریخ کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ واقعات و حقائق کا محض اندراج کردے بلکہ ضروری ہے کہ مختلف سروں کو باہمی ربط دے کر ایک ایسی تنظیم میں لے آئے کہ یہ تصویر پڑھنے والے کے ذہن پر نقش ہوجائے اور ادب کا حقیقی ،تاریخی ارتقاء بھی نظروں کے سامنے آجائے ۔ تاریخ بیک وقت کیوں اور کیسے کا جواب بھی ہے جس میں مختلف عوامل اور رجحانات کی وجہ دریافت کر کے انھیں ایک مشترک رشتے میں پرونا ہوتا ہے ‘‘۔(۱۸)
ادبی تاریخ کو صرف تاریخ کے چند خشک واقعات تک محدود نہیں رہنا چاہیئے بلکہ اس میں زندگی کی کشمکش ، بحر زیست میں رونما ہونے والے مدو جزر اورمعاشرے کی بدلتی ہوئی قدریں بھی نظر آنی چاہیئے۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی’’زندگی میں جو حرکت وعمل نظر آتے ہیں ان کی واضح جھلک ادبی تاریخ میں بھی نظر آنی چاہیئے۔ ادبی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آنی چاہیئے کہ حال کا ماضی سے کیا رشتہ ہے اور یہ بات بھی کہ حال ماضی کو کیسے بدلتا رہتا ہے‘‘۔(۱۹)
بحیثیتِ مجموعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ اد ب ، ادب کا ایک ایسا لازمی جزو ہے جس کے بغیر ادب کا سمجھنا محال ہے ۔
ادبی تاریخ کے اصول
اوپر کے مباحث کی روشنی میں ادبی تاریخ کے حوالے سے چند نکات سامنے آتے ہیں ۔ ان نکات کی روشنی میں ادبی تاریخ کے اصول یہ ہیں ۔
ادبی تاریخ کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ وہ ادب کا پس منظر بیان کرے ،لیکن پس منظر کے حوالے سے ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ پس منظر طویل نہ ہو بلکہ اس باب میں جامعیت اور اختصار سے کام لیا جائے۔
دوسری سب سے ضروری اور اہم بات یہ ہے کہ ادب کے حوالے سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے اور خالص تاریخ کی بجائے ادبی تاریخ پر زور دیا جائے ،کیونکہ ہمارا مقصد ادب کی تفہیم کے لیے تاریخ سے رجوع کرنا ہے نہ کہ خالص تاریخ کا مطالعہ۔
ادبی تاریخ کو محض تاریخیت تک محدود کرنا بھی ایک گمراہ کن بات ہوگی ، اس ضمن میں کوشش اس بات کی کی جائے کہ ادبی تاریخ میں زندگی کے نشیب و فراز ، معاشرے کی کشمکش اور سماج کا نقشہ بھی دکھائی دے ،کیونکہ ادب زندگی کی عکاسی کرتا ہے اور زندگی معاشر ے میں جنم لیتی اور پھلتی پھولتی ہے ،لہٰذا اس کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
ادبی تاریخ میں ادب کے ساتھ ساتھ زبان کی تاریخ کو بھی پیش کیا جانا ضروری ہے ۔زبان اسکا آغاز و ارتقاء اور لسانی مباحث کو بھی تاریخ ادب کا حصہ ہونا چاہیئے۔
تاریخ ادب کو ٹکڑوں کی بجائے ، ایک ارتقائی وحدت کی صورت میں پیش کیا جائے۔
افراد کی بجائے ادوار کو اہمیت دی جائے ، اور افراد ،اصناف اور تحاریک کو ادوار کے ذریعے سے پڑھا جائے۔
واقعات کو ترتیب کے ساتھ مربوط شکل میں اس طرح پیش کیا جائے کہ جس ترتیب سے وہ رونما ہوئے ہوں۔
تاریخ ادب میں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ سنی سنائی باتوں کو تقویت نہ ملے بلکہ حقائق کو چھان پھٹک کر صرف مستند مواد کو ہی تاریخ کا حصہ بنایا جائے اور من گھڑت باتوں سے ممکنہ حد تک اجتنا ب کیا جائے۔
حوالہ جات
۱۔ ایس ایم معین ،قریشی،اردو زبان و ادب ،تمہید،شیخ شوکت علی اینڈ سنز ، کراچی، ۱۹۸۶ء
۲۔ حامداللہ افسر، میرٹھی، تنقیدی اصول اور نظریے ، انجمنِ ترقی اردو پاکستان، کراچی،۱۹۷۵ء صفحہ نمبر ۳۱
۳۔عابد علی عابد،سید ، اصولِ انتقادِ ادبیات، مجلسِ ترقی ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء صفحہ نمبر ۱۷
۴۔محمد اشرف کمال ،ڈاکٹر ، تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات ، مثال پبلشرز ،فیصل آباد، ۲۰۱۶ءصفحہ نمبر۱۴۵
۵۔ انور جما ل،پروفیسر، ادبی اصطلاحات، نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد، ۲۰۱۶ء،صفحہ نمبر ۳۸
۶۔انور سدید ،ڈاکٹر ،اردو ادب کی تحریکیں ، انجمنِ ترقی ِ اردو، کراچی ،۲۰۱۰ء ،صفحہ نمبر ۴۲
۷۔سید عبداللہ،اشاراتِ تنقید ، مکتبہ خیابانِ ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء صفحہ نمبر ۳۲۴
8. https://www.britannica.com/search?query=LITERATURE
7:12 PM DATE:1/4/2019
۹۔بحوالہ ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر ۱۰۴
10. https://www.merriam-webster.com/dictionary/history
7:30PM DATE:1/4/2019
11. https://www.britannica.com/search?query=HISTORY
7:48PM DATE:1/4/2019
۱۲۔اشرف کمال ، ڈاکٹر، تاریخِ اصناف نظم و نثر،سٹی بک پوائنٹ ، کراچی،۲۰۱۷ء،صفحہ نمبر ۲۶۳
۱۳۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
۱۴۔سید عامر سہیل ، ڈاکٹر، نسیم عباس احمر، ادبی تاریخ نویسی، پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی، لاہور،۲۰۱۰ء صفحہ نمبر ۲۳
۱۵۔ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر۱۰۷
۱۶۔جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
۱۷۔ڈاکٹر سہیل احمد ، اردو ادب کی تاریخ: تدریس کے نئے تناظرات، مشمولہ خیابان،شمارہ نمبر ۲۶، ۲۰۱۲،صفحہ نمبر۱۰۸
۱۸۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء صفحہ نمبر ۱۲
۱۹۔ جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، تاریخِ ادبِ اردو ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء صفحہ نمبر۱۳
کتابیات
ادبی اصطلاحات ، انور جمال، نیشنل بک فاؤنڈیشن ،اسلام آباد، ۲۰۱۶ء
اردو زبان و ادب ، ایس ایم معین قرشی، شیخ شوکت علی اینڈ سنز ،کراچی، ۱۹۸۶ء
اردو ادب کی تحریکیں، انور سدید ، انجمنِ ترقی اردو ،کراچی،۲۰۱۰ء
ادبی تاریخ نویسی، سید عامر سہیل ، ڈاکٹر، نسیم عباس احمر، پاکستان رائٹرز کوآپریٹو سوسائٹی، لاہور،۲۰۱۰ء
اشاراتِ تنقید، سید عبداللہ،مکتبہ خیابانِ ادب ، لاہور، ۱۹۶۶ء
اصول انتقادِ ادبیات ، سید عابد علی عابد،مجلسِ ترقی ادب لاہور،۱۹۶۶ء
تاریخ ِ ادبِ اردو، جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، جلد اوّل ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۸ء
تاریخِ ادبِ اردو،جمیل جالبی ، ڈاکٹر ، جلد دوم ، پیش لفظ، مجلسِ ترقیِ ادب ، لاہور، ۲۰۰۵ء
تاریخ اصناف نظم و نثر ، اشرف کمال ،سٹی بک پوائنٹ،کراچی،۲۰۱۷ء
تنقیدی اصول اور نظریے، حامداللہ افسر، میرٹھی، انجمنِ ترقی اردو پاکستان، کراچی،۱۹۷۵ء
تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات ، محمد اشرف کمال ،ڈاکٹر ،مثال پبلشرز ،فیصل آباد، ۲۰۱۶ء
رسائل
خیابان ،شعبہ اردو جامعہ پشاور،شمارہ نمبر ۲۶ ،۲۰۱۲ء
انٹرنیٹ
https://www.britannica.com
https://www.merriam-webster.com
No comments:
Post a Comment